ڈراما : اجی سنتے ہو!
پہلی قسط
تحریر : پروفیسر عامر حسن برہانوی
بیوی: اجی سنتے ہو!
میاں: جی جی سن رہا ہوں بیگم!
بیوی: ارے کیا خاک سنتے ہو۔ منھ کتاب کو دیا ہوا ہے اور کہہ رہے ہیں کہ سن رہا ہوں۔
میاں: بیگم! سنا ہمیشہ کانوں سے جاتا ہے۔ اور میرے کان تمھاری ہی طرف متوجہ ہیں۔
بیگم: بس بس۔ یہ اپنا فلسفہ اپنے سٹوڈنٹوں پہ جھاڑیے گا۔
میاں: ارے بھئی! غلطی ہو گئی۔
بیوی: غلطی؟ ارے غلطی تو مجھ سے ہوئی ہے جو تم سے شادی کر لی۔ اچھا خاصا ڈاکٹر کا رشتہ آیا تھا میرے لیے۔ اگر اس سے شادی کر لیتی تو آج کم از کم اس کے ہسپتال میں نرس تو ہوتی۔
میاں: بیگم! بارہا سمجھا چکا ہوں کہ وہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر نہیں پی ایچ ڈی ڈاکٹر تھا۔
بیوی: اے ہے تو کیا ہوا۔ ڈاکٹر تو ڈاکٹر ہوتا ہے۔ تم سے بہتر تھا ناں وہ۔
میاں: ارے کیا خاک بہتر تھا۔ نفسیاتی مریض تھا وہ۔ فلسفے کا ڈاکٹر تھا۔ خود کو ”ارسطوئے ثانی“ کہا کرتا تھا۔
بیوی: ہاں تو چوڑی چھاتی اور لمبا قد تھا اس کا ارسطو تو ہو گا ہی ناں وہ۔
میاں: تمھیں پتہ بھی ہے ارسطو کون تھا؟
بیوی: پہلوان تھا۔
میاں: او میری بھولی بیگم! پہلوان نہیں تھا وہ۔ فلسفی تھا۔
بیوی: ہاں تو پھر وہ فلسفے کا پہلوان ہو گا۔
میاں: اچھا بھئی یہ سب چھوڑو۔ وہ سناؤ جو سنانے آئی تھی۔
بیوی: کیا مطلب سنانے آئی تھی؟ یعنی تم کو یہ لگتا ہے کہ میں تم کو سنانے آئی تھی۔
میاں: اوہو بیگم! تم غلط سمجھ رہی ہو۔
بیوی: اچھا۔ یعنی اب میری سمجھ بھی خراب ہے۔
میاں خاموش ہے۔
بیوی: خاموش کیوں ہو گئے اب؟ کچھ بولتے کیوں نہیں؟
میاں: بھئی اب میں کیا بولوں؟
بیوی: جو تمھارے دل میں آتا ہے بولو۔ کسی نے تمھاری زبان تھوڑی پکڑی ہے۔
میاں: زبان تو نہیں پکڑی البتہ بات تو کسی نے پکڑی ہے۔ اور ایسی پکڑی ہے کہ میں دل پکڑ کر رہ گیا ہوں۔
بیوی: اے ہے کون ہے وہ؟ کس نے پکڑی ہے تمھاری بات؟
میاں خاموش ہے۔
بیوی: چپ کیوں ہو بولتے کیوں نہیں؟
میاں: بھئی میں تو تمھاری بات سننا چاہتا ہوں جو تم کہنے آئی تھی۔
بیوی: تو تم کتاب رکھو گے تو کچھ کہوں گی ناں۔
میاں: لیجیے بھئی یہ رہی کتاب۔ میز پہ ٹھیک ہے یا کہو تو الماری میں رکھ دوں۔
بیوی: نہیں ادھر ہی ٹھیک ہے۔
میاں: چلیں اچھا ہے۔ بولیے۔
بیوی: میں یہ کہہ رہی تھی کہ میں نے یوٹیوب پہ ویڈیو دیکھی ہے کہ اب آپ گھر بیٹھے پیسے کما سکتے ہیں۔
میاں: یہ ویڈیو تو تم نے پچھلے ہفتے بھی دیکھی تھی۔
بیوی: ارے نہیں۔ اس میں وہ یوٹیوب والا بھائی بتا رہا تھا کہ آپ یوٹیوب پہ کھانا پکانے والا چینل بنائیں اور گھر بیٹھ کر پیسے کمائیں۔
میاں: تو اب تم یوٹیوبر بنو گی؟
بیوی: ہاں تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ کھانا روز ہی تو بناتی ہوں۔ اب کھانا بنانے کی ویڈیو بھی ساتھ بنا لیا کروں گی۔
میاں: نہیں حرج تو کوئی نہیں لیکن پچھلے ہفتے تو آپ بلاگر بننا چاہ رہی تھیں۔
بیوی: ہاں تو یوٹیوب کی ویڈیو بلاگ پہ بھی لگ جاتی ہے۔
میاں: بھئی میری طرف سے تمھیں کوئی روک ٹوک نہیں۔ بلاگر بنو یوٹیوبر بنو۔ جو مرضی کرو۔
بیوی: کیا مطلب جو مرضی کرو؟
میاں: کچھ نہیں۔ یہ بتاؤ تم چاہتی کیا ہو؟
بیوی: مجھے اچھے کیمرے والا موبائل چاہیے تاکہ میں ویڈیو بنا سکوں۔
میاں: اوہ تو بلی تھیلے سے باہر آ ہی گئی۔
بیوی: کون سی بلی؟ کون سا تھیلا؟ موبائل چاہیے مجھے بلی یا تھیلا نہیں۔
میاں: لیکن تمھارے تو اس موبائل کا کیمرہ بھی بڑا اچھا ہے۔ یاد ہے تم نے سیلفی بنائی تھی تو تمھارے چہرے پہ بنے دانے بھی نمایاں ہو رہے تھے سیلفی میں۔
بیوی: اسی دن تو مجھے اس سے نفرت ہو گئی تھی۔ مجھے کچھ نہیں پتہ مجھے نیا موبائل چاہیے بس۔
میاں: اچھا ٹھیک ہے۔ ایک ڈیل کرتے ہیں۔
بیوی: کون سی ڈیل؟
میاں: ڈیل یہ ہے کہ اپنے یوٹیوب چینل کی پہلی پچاس ویڈیوز تم اسی موبائل سے بناؤ گی۔ پھر یہ موبائل بھی پاس رکھنا اور نیا بھی لے کر دوں گا۔
بیوی: ہیں؟ سچی؟ ہائے اللہ آپ کتنے اچھے ہیں۔ رقیہ یہ خبر سنے گی تو دیکھنا ہارٹ اٹیک آ جائے گا اس کو۔
میاں: تمھاری تو رقیہ سے لڑائی ہو گئی تھی ناں۔
بیوی: ارے اسے چھوڑو یہ لو تم اپنی کتاب پڑھو۔ میں ذرا رقیہ سے بات کر لوں۔
پڑھیے : اجی سنتے ہو! قسط نمبر 2
