افسانہ : آزادی
تحریر : پروفیسر عامر حسن برہانوی
”آپ بھی عورت مارچ میں جا رہی ہیں؟“ بس میں سوار ساتھ بیٹھے لڑکے نے پوچھا۔
”جی ہاں۔“ وہ صرف اتنا ہی کہہ سکی۔ یہ سنتے ہی لڑکے کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
”بہت خوب۔ آپ کو پتہ ہے میں بھی عورتوں کی آزادی کا قائل ہوں۔“
یہ سنتے ہی اس نے سکھ کا سانس لیا۔ اس کا نام حمنہ تھا۔ وہ پہلی بار اپنی کلاس فیلوز کے کہنے پہ عورت مارچ میں جا رہی تھی۔ مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے کے باوجود وہ شہر کے اس مہنگے تعلیمی ادارے میں پڑھتی تھی جہاں اونچے گھرانوں کے لڑکے لڑکیاں پڑھتے تھے۔
”یقین کریں جب سے میں نے اپنی بہن کو آزادی دی ہے لائف کی گاڑی ایک دم ٹریک پہ آ گئی ہے۔ سکون ہی سکون ہے۔“ لڑکا اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھا۔
”وہ کیسے؟“ حمنہ نے سوال پوچھا۔
” شروع میں پرابلم ہوا تھا۔ بس کھانا بنانا ہی تو سیکھنا تھا مجھے۔ باقی برتن دھونا، کپڑے دھونا اور صفائی کرنا تو مجھے پہلے ہی آتا تھا۔ بھئی ظاہر ہے جہاں میں رہتا ہوں وہاں کی صفائی مجھے ہی کرنی چاہیے ناں اور جو کپڑے میرے ہیں وہ میں خود ہی دھوؤں گا ناں۔ اور کھانا چوں کہ مجھے کھانا ہے تو بنانے میں کیا حرج ہے۔ تو میں نے بھی صاف کہہ دیا کہ بہن! میں اپنا کھانا خود بنا لوں گا تم بس اپنا جہیز بنا لو۔ وہ کیا ہے کہ مجھے اپنا گھر بھی بنانا ہے۔ تو بس وہ ابھی جاب کی تلاش میں دھکے کھا رہی ہے۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ جاب ملنا کتنا مشکل ہے۔ اسے جاب نہیں ملے گی تو وہ اپنا جہیز کیسے بنائے گی۔ لیکن کوئی نہیں۔ ہم نے بھی کہہ دیا ہے کہ اب یہ تمھارے اوپر ہے۔“ لڑکا بولتا ہی چلا جا رہا تھا۔ وہ خاموشی سے اسے سن رہی تھی۔ اور سوچوں کا ایک طوفان اسے گھیر چکا تھا۔ بس اپنے سٹاپ پہ رک گئی اور اسے اترنا پڑا۔ لیکن وہ مسلسل سوچے چلے جا رہی تھی۔ وہ اپنے بوڑھے اور کمزور باپ کے متعلق سوچنے لگی جو گھر کے اخراجات کے ساتھ ساتھ اس کے کالج کی فیسوں اور کرایوں کے لیے بڑھاپے میں بھی کام کرتا تھا۔ اپنی ماں کے بارے میں سوچنے لگی جو ہر ماہ پیسے بچا کر اس کے جہیز کے لیے کچھ نہ کچھ خرید کے رکھ لیتی۔ اپنے اکلوتے بھائی کے بارے میں سوچنے لگی جس کے کندھے پہ تین جوان بہنوں کی ذمہ داری تھی۔ جو اپنی تعلیم چھوڑ کر فیکٹری میں روزانہ اٹھارہ سے بیس گھنٹے کام کرتا تھا کہ اسے اپنا گھر بھی بنانا ہے اور بہنوں کا جہیز بھی۔ وہ نہ جانے کب تک سوچتی رہتی کہ اچانک اس کی سہیلی کی کال آ گئی۔ وہ پوچھ رہی تھی کہ وہ ابھی تک پہنچی کیوں نہیں۔ حمنہ اپنی بیماری کا بہانہ بنا کر واپسی کی بس ڈھونڈنے لگی۔
