دادا جی کی برسی

 


ڈراما : دادا جی کی  برسی

تحریر : عامر حسن برہانوی


کرداروں کے نام

پروفیسر عادل جیلانی - مرکزی کردار

مولانا قمر الدین قادری - پروفیسر کے والد

توقیر علی - پروفیسر کا دوست

جنید ، جمیل اور کمال - توقیر علی کے دوست



منظر

پردہ اٹھتا ہے۔ پروفیسر عادل جیلانی سامنے کرسی پہ کاغذ قلم لیے بیٹھے ہیں۔ گویا کہ وہ کچھ لکھ رہے ہیں۔

پروفیسر (خود کلامی کرتے ہوئے): لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں، کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں۔ واہ کیا شعر ہے۔ لیکن یہ شعر بہادر شاہ ظفر کا شعر ہے۔ اصولی طور پہ یہ شعر میرا ہونا چاہیے۔ آج مجھے بہادر شاہ ظفر سے بڑی جیلسی محسوس ہو رہی ہے۔

اتنے میں پروفیسر صاحب کے والد مولانا قمر الدین قادری صاحب اسٹیج پہ نمودار ہوتے ہیں۔

مولانا: یہ میں کیا سن رہا ہوں عادل؟ تم اپنے دادا مرحوم یعنی میرے والدِ ماجد کی برسی پہ مشاعرہ کروانا چاہتے ہو؟

پروفیسر (اٹھتے ہوئے): آپ نے بالکل ٹھیک سنا ہے ابا جان! میں چاہتا ہوں کہ دادا جی کی برسی پہ ایک شاندار مشاعرہ ہو جس میں ملک پاکستان کے نامور شعرا شرکت فرمائیں اور ۔۔۔

مولانا: بس۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں مشاعرے کے سخت خلاف ہوں۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی قرآن خوانی ہو گی۔ یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔

پروفیسر: مشاعرے سے آپ کو اتنی الرجی کیوں ہے ابا جان؟ کہیں آپ کو اس بات کا ڈر تو نہیں ہے کہ مشاعرے میں کہیں کوئی آپ کی قلفی چھین کے نہ بھاگ جائے۔

مولانا: بکواس مت کرو۔ نالائق! ناہنجار! مشاعروں میں ہوتا ہی کیا ہے سوائے بے ہودگی اور ہوس بھری باتوں کے۔

پروفیسر: ایسا نہیں ہے ابا جان! مشاعرے میں کوئی بے ہودہ باتیں نہیں ہوتیں بلکہ مشاعرے میں تو حمد پڑھی جاتی ہے۔ نعتیہ کلام پڑھے جاتے ہیں۔

مولانا: حمد اور نعتیہ کلام کے بعد کیا پڑھا جاتا ہے؟ 

پروفیسر: وہ ۔۔۔ مرثیہ ابا جان!

مولانا: مرثیہ؟ مرثیے کی اولاد۔ اس سب کے بعد غزل پڑھی جاتی ہے۔ غزل یعنی عورتوں کی جھوٹی تعریفوں کا مجموعہ۔ بے ہودہ پن اور مردانہ ہوس کا کھلے عام اظہار۔ مثال کے طور پہ یہی شعر دیکھ لو کہ 

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

اب دیکھو ذرا۔ اس شعر میں اتنا بڑا جھوٹ ہے کہ لڑکی کے ہونٹوں کو گلاب کی پنکھڑی کہا جا رہا ہے۔ یعنی شاعر اس قدر اندھا تھا کہ اس کو گلاب کی پنکھڑی اور لڑکی کے ہونٹوں میں فرق ہی نظر نہیں آیا۔ انتہائی بے ہودہ شعر ہے۔

پروفیسر: صحیح کہہ رہے ہیں ابا! لیکن اتنا بے ہودہ شعر آپ کی زبان پر کیسے؟

مولانا (حواس باختہ ہو کر): وہ۔۔۔ ہمارے میٹرک کے سلیبس میں تھا۔

پروفیسر: میٹرک کے سلیبس میں تو نعت بھی تھی۔ وہ نعت یاد ہے آپ کو۔

مولانا (ہکلاتے ہوئے): اب۔ اب۔ وہ۔ ب۔ بکواس مت کرو۔ میں نے کہہ دیا کہ مشاعرہ نہیں ہو گا تو نہیں ہو گا۔

پروفیسر: کیوں نہیں ہو گا؟ مشاعرہ ہو گا اور ضرور ہو گا۔ اور اس میں میں دادا جی شان میں مرثیہ پڑھوں گا۔

مولانا: سب جانتا ہوں میں۔ اس کے بعد تم سارے شاعر لوگ یہاں بیٹھ کر جو لڑکیوں کے جسمانی اعضا پہ بے ہودہ شعر کہو گے اس کا کیا؟

پروفیسر: میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں کہ ایسا کوئی شعر نہیں کہا جائے گا۔

مولانا: اچھا۔ تو پھر اس شرط پر مشاعرہ ہو گا کہ اس میں غزل نہیں پڑھی جائے گی۔

پروفیسر: یہ کیا بات ہوئی ابا! غزل تو مشاعرے کی جان ہوتی ہے۔ بھلا غزل کے بغیر بھی کوئی مشاعرہ ہوا ہے؟ 

مولانا: ہاں۔ دیکھا۔ آ گیا ناں دُم پہ پاؤں۔ مجھے سب پتہ ہے کہ تم شاعر لوگ غزل کے نام پہ کیا کیا بے ہودگی بکتے ہو۔

پروفیسر: بے ہودگی کیا ابا؟ کوئی بے ہودگی نہیں ہوتی۔ وہ تو غزل کا مزاج ہی ایسا ہے کیوں کہ غزل کا مطلب ہی یہی ہے عورتوں سے باتیں کرنا۔

مولانا: وہی تو۔ تم میرے والد کی برسی پر غیر محرم عورتوں سے باتیں کرنا ہی کیوں چاہتے ہو؟ بے غیرت کہیں کے۔ 

پروفیسر: اس میں بے غیرتی والی کیا بات ہے ابا؟ میں تو آپ کو غزل کے لغوی معنی بتا رہا تھا۔ اور ضروری نہیں ہے کہ غزل میں صرف عورتوں سے باتیں ہو۔ دنیا کی بے ثباتی کو بھی غزل میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ میر تقی میر کا ہی یہ شعر ہے کہ 

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

یہ نمائش سراب کی سی ہے

اس میں دنیاوی زندگی کے عارضی ہونے کا مضمون باندھا گیا ہے۔

مولانا: اور اسی غزل میں شاعر کہتا کہ نازکی اس کے لب کی کیا کہیے۔ پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے۔ میں سب سمجھتا ہوں۔ تم شاعر لوگ اچھا خاصا اللہ رسول کا ذکر کرتے کرتے اسی غزل میں اپنی گاڑی غیر محرم عورت کی طرف موڑ لیتے ہو۔ بس فیصلہ ہو گیا۔ مشاعرہ نہیں قرآن خوانی ہو گی۔

پروفیسر: قرآن خوانی تو ہر سال ہوتی ہے ابا! اس سال مشاعرہ ہو گا۔

مولانا: اوئے بات سنو! یہ تمھیں مشاعرے کا اتنا ہی شوق ہے تو کسی دوسرے مشاعرے میں چلا جا۔

پروفیسر: چلا تو جاؤں لیکن مجھے کوئی بلاتا ہی نہیں ہے۔

مولانا: کیوں؟

پروفیسر: سارے کہتے ہیں تم مولوی کے بیٹے ہو۔ تمھارے شعروں سے اسلام کی بو آتی ہے۔

مولانا: ہیں؟ اسلام کی بو مطلب؟

پروفیسر: مطلب یہ کہ اپنی بیوی پہ شاعری کرو گے تو اسلام کی بو ہی آئے گی ناں۔ جیسے کہ میری نظم ہے بیگم۔ سماعت فرمائیں۔ عرض کیا ہے کہ 

پسینے کی بد بو میں نہائی ہوئی زلفیں

مولانا: ہیں؟ ہیں؟ ہیں؟

پروفیسر: پسینے کی بدبو میں نہائی ہوئی زلفیں

لہرا کے لچک کے وہ میرے سامنے آئی

ہونٹوں پہ تھے ہانڈی کے ابھی بننے کے قصے

ہاتھوں سے نمایاں تھی لہسن کی مہک بھی

اور پیاز اور ادرک کی بھی خوشبو تھی سمائی

کچن کی تمازت سے تھا تپتا ہوا چہرہ

گردن پہ تھے آٹے کے نشاں تازہ نمایاں

اور لب پہ میرے تھی یہی بس ایک دہائی

اسلام نے کیا تجھ کو یہ تعلیم نہیں دی؟

کہ شوہر کے جو پہلو میں تم آؤ تو سنور کر

تو بتا میری بیگم کہ مجھے ملنے سے پہلے

تو لکس کے صابن سے ہے کیوں نہ نہائی؟

مولانا: ہیں؟ یہ شاعری ہے؟

پروفیسر: ہاں تو اور کیا؟ آ رہی ہے ناں اسلام کی بو؟ دیکھا آپ نے محرم عورت سے گفتگو کا نتیجہ۔

مولانا: بے شرم! نالائق! بے حیا! گھر کی باتیں شعروں میں لکھ کر مجمع عام میں سناتا ہے۔ بے غیرت انسان۔

پروفیسر: لو جی! محبوبہ پہ لکھو تو کہتے ہیں کہ کسی کی بہن بیٹی پہ شاعری کرتے ہو شرم نہیں آتی۔ اور گھر والی پہ شاعری کرو تو کہتے ہیں کہ گھر کی باتیں دوسروں کو کیوں سنا رہے ہو۔ اب بتاؤ بھلا۔ شاعر کرے تو کیا کرے؟ 

مولانا: شاعر کا تو پتہ نہیں لیکن تو کوئی ڈھنگ کا کام کر۔ یہ شاعری کا خناس اپنے ذہن سے نکال اور اپنے دادا کے لیے سیپارے پڑھنا شروع کر۔ 

پروفیسر: اچھا اچھا ٹھیک ہے ابا! سوچتا ہوں اس بارے۔

مولانا صاحب چلے جاتے ہیں۔ 

پروفیسر (خود کلامی کرتے ہوئے): خود تو نازکی اور گلاب کی پنکھڑی یاد کی ہوئی ہے اور مجھے کہتے ہیں کہ سیپارے پڑھ۔ 

اتنے میں توقیر علی اسٹیج پہ نمودار ہوتا ہے۔

توقیر: السلام علیکم! پروفیسر صاحب!

پروفیسر: وعلیکم السلام! جناب۔ عزت مآب توقیر علی صاحب! کیسے ہیں؟

توقیر: میں بالکل ٹھیک ہوں آپ سنائیں۔

 دونوں دوست ایک دوسرے کے گلے ملتے ہیں۔ اور اسٹیج پہ پڑے صوفے پہ بیٹھ جاتے ہیں۔

پروفیسر: بس یار کیا بتاؤں بڑا پریشان ہوں۔

توقیر: کیوں کیا ہوا؟

پروفیسر: تمھیں تو پتہ ہے میرے دادا جی کی برسی آ رہی ہے۔ تو میں چاہ رہا ہوں کہ اس دفعہ اس موقع پہ مشاعرہ کرواؤں۔

توقیر: ارے واہ۔ بڑا اچھا خیال ہے۔ تو اس میں پریشانی والی کیا بات ہے؟

پروفیسر: ابا نہیں مان رہے ناں۔ خیر وہ میں منا لوں گا۔ میں نے تمھیں اس لیے بلوایا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تم اس مشاعرے کے اسٹیج سیکرٹری بنو گے۔ اور تم دو تین شاعروں کا بندوبست بھی کرو۔

توقیر: وہ تو ٹھیک ہے لیکن میں شاعر کہاں سے لاؤں یار؟ 

پروفیسر: اخبار میں اشتہار دے دو کہ مشاعرے کے لیے تین عدد شعرا کی ضرورت ہے۔ 500 روپے دہاڑی بھی دی جائے گی۔ 

توقیر: بہت اچھے۔ میں کہتا ہوں اخبار میں اشتہار کے ساتھ محلے کی مسجد میں بھی اعلان نہ کر دیں کہ (بآواز بلند) حضرات! ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں۔ پروفیسر عادل جیلانی کے دادا مرحوم۔ مولانا قمر الدین قادری کے والد ماجد کی سالانہ برسی پہ ایک عظیم الشان مشاعرہ انعقاد پذیر ہے۔ شاعروں سے اپیل ہے مشاعرے میں شرکت کر کے ثوابِ دارین حاصل کریں۔ 

پروفیسر: بہت اچھے بھئی بہت اچھے۔ اس طرح تو پورا محلہ اکٹھا ہو جائے گا۔ وہ بھی آ جائے گا جو شاعر نہیں ہے۔ 

توقیر: تو تم ہی بتاؤ۔ آج کل شاعر ملتے کہاں ہیں۔

پروفیسر: ارے یار ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے۔ تم بس کسی طرح شاعروں کا انتظام کرو۔

توقیر: انتظام تو ہو جائے گا لیکن پانچ سو روپے کم نہیں ہیں؟ کم از کم ایک ہزار تو ہو۔

پروفیسر: کیوں؟ شاعر نے شعر پڑھنا ہے یا لکی ایرانی سرکس کرنی ہے؟  



توقیر: ارے یار کیسی بات کر رہا ہے؟ اتنی مہنگائی ہو گئی ہے پانچ سو میں آتا کیا ہے۔

پروفیسر: اچھا چلو ٹھیک ہے۔ فی شاعر ایک ہزار روپے۔

توقیر: ہاں تو لاؤ۔

پروفیسر (جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے): ہاں ہاں دوں گا۔ دوں گا۔ (ہاتھ خالی نکال کر) لازمی دوں گا۔ 

توقیر (خالی ہاتھ دیکھ کر): دوں گا نہیں ابھی دو یار میں نے ایڈوانس دینا ہے۔ شاعر کو پکا بھی تو کرنا ہے۔

پروفیسر: پکا کرنا ہے کیا مطلب؟ کیا شاعر پہ پلستر کروانا ہے؟

توقیر: میرا مطلب ہے کہ مشاعرے کے لیے تیار کرنا ہے۔

پروفیسر (پیسے پکڑاتے ہوئے): اچھا یار یہ لو۔ پورے تین ہزار روپے۔ تین شاعروں کو بلانا ہے۔ زیادہ وقت نہیں ہے بس ایک دو دنوں میں ہی بندوبست کرو یار۔

توقیر: فکر ہی نہ کریں پروفیسر بھائی! بس یوں سمجھیں کہ بندوبست ہو گیا۔ 

پروفیسر: چلو ٹھیک ہے۔

پروفیسر چلا جاتا ہے۔

توقیر (اٹھ کر اسٹیج پہ چہل قدمی کرتے ہوئے خود کلامی کرتا ہے): پیسے تو مل گئے لیکن اب شاعر کہاں سے لاؤں؟ اور وہ بھی تین تین شاعر۔ (اچانک اس کے دماغ میں کچھ آتا ہے) آئیڈیا۔ کیوں نہ میں اپنے تینوں لفنگے دوستوں کو شاعر بنا کر پیش کروں۔ شاعروں کا بندوبست بھی ہو جائے گا اور پیسے بھی بچ جائیں گے۔ (جیب سے موبائل نکال کر نمبر ڈائل کرتا ہے۔ اور موبائل کان پہ لگا کر) ہاں جنید کیسا ہے؟ یار ایک کام ہے تجھ سے۔ ایسا کر ابھی مجھ سے ملنے کے لیے آ اور ہاں جمیل اور کمال کو بھی لیتے آنا۔ ایک ایمپارٹینٹ کام ہے۔ ہاں بس جلدی آ۔ 

موبائل جیب میں ڈالتا ہے کہ اتنے میں مولانا قمر الدین قادری صاحب اسٹیج پہ نمودار ہوتے ہیں۔

توقیر: السلام علیکم! استاد جی کیسے ہیں آپ؟ (جھک کر ملتا ہے).

مولانا: وعلیکم السلام! بیٹا میں ٹھیک ہوں۔ تم سناؤ کیسے ہو؟

توقیر : آپ کی دعائیں ہیں استاد جی!

مولانا: اچھا بیٹا! آئے تو تم ہو ہی ایک بات کرنی ہے تم سے۔

توقیر: جی جی آپ حکم کریں۔

مولانا: بیٹا بات یہ ہے کہ تم تو جانتے ہو کہ تمھارے دوست عادل پر آج کل شاعری کا بھوت سوار ہے۔ تو وہ چاہتا ہے کہ اپنے دادا کی برسی پہ مشاعرہ کروائے۔

توقیر: ہاں تو اس میں غلط ہی کیا ہے استاد جی؟ آپ کے والد بھی تو ایک شاعر تھے۔ شاعر کے لیے اس سے بڑھ کر خراج تحسین اور کیا ہو گا کہ اس کی یاد میں مشاعرہ کروایا جائے۔

مولانا: ہاں یہ بات درست ہے کہ ابا جی شاعر تھے۔ لیکن انھوں نے ساری زندگی نعتیں اور منقبتیں ہی لکھی ہیں۔ انھوں نے کبھی غزل کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ اور عادل کا تو تمھیں پتہ ہے غزلیں لکھتا ہے۔ اور پھر جن شاعروں کو بلائیں گے وہ بھی تو غزلیں ہی کہیں گے ناں۔ تو یہ کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتا۔

توقیر: یہ بات تو ہے۔ لیکن استاد جی یوں بھی تو ہو سکتا ہے کہ دن کے وقت حسب روایت قرآن خوانی کروا لی جائے اور رات کے وقت مشاعرہ۔ 

مولانا: یعنی دن بھر جو نیکی کی ہے رات کو اس عیاشی میں اڑا دیں۔ بہر حال تم کچھ سمجھاؤ اس کو یہ مشاعروں والی حرکتیں ٹھیک نہیں ہیں۔ 

توقیر: چلیں ٹھیک ہے۔ میں اسے سمجھاتا ہوں۔ آپ بے فکر رہیں استاد جی۔

مولانا صاحب چلے جاتے ہیں۔ 

توقیر: میں پاگل ہوں جو اسے سمجھا کر تین ہزار سے ہاتھ دھو لوں۔

اتنے میں جنید ، جمیل اور کمال تینوں اکٹھے اسٹیج پہ نمودار ہوتے ہیں۔

چاروں ایک دوسرے کے گلے لگتے ہیں اور سلام دعا لیتے ہیں۔

جمیل (توقیر سے): بتا یار! کیوں بلوایا ہے؟ 

توقیر: حوصلے سے۔ اتنی جلدی بھی کیا ہے؟

جمیل: ابے یار! اچھا خاصا میں ضروری کام سے سویا ہوا تھا۔ مجھے جگا کر یہاں لے آیا کہ کوئی کام ہے۔

توقیر: کام کیا ہے بس یوں سمجھو کہ مفت میں بریانی ملے گی۔

تینوں چونک کر: ہیں؟ مفت میں بریانی؟ وہ کیسے؟

توقیر: یار وہ میرا دوست ہے ناں پروفیسر۔ مشاعرہ کروا رہا ہے۔ تم لوگ وہاں شاعر بن کے اسٹیج پہ بیٹھ جانا۔ ایک ایک نظم پڑھ دینا اور بعد میں بریانی کھائیں گے۔

کمال: وہ تو ٹھیک ہے لیکن ہم نظم لائیں گے کہاں سے؟

جنید: جہاں سے بھی لائیں گے پکڑے جائیں گے۔

توقیر: ارے اس کا بندوبست بھی ہو جائے گا تم بس حامی بھرو۔

جمیل: لیکن کیسے ہو گا؟

توقیر: دیکھو! نظم یا غزل لکھنا بہت آسان ہے۔ کسی مشہور شاعر کی کوئی غزل اٹھاؤ اس میں کچھ ایسا ڈالو کہ وہ تمھاری ہو جائے۔

کمال: مثال کے طور پر

توقیر: مثال کے طور پہ غالب کا شعر ہے

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

آخر اس درد کی دوا کیا ہے

اس میں دلِ ناداں کو دلِ شاداں کر دو۔ اور چوں کہ دلِ شاداں کا مطلب ہے کہ دل خوش ہے تو دوسرے مصرعے میں درد کو خوشی میں اور دوا کو وجہ میں بدل دو۔ بس شعر تیار ہے۔

دلِ شاداں تجھے ہوا کیا ہے

آخر اس خوشی کی وجہ کیا ہے

کمال: واہ یار حالاں کہ کمال میرا نام ہے لیکن کمال تو نے کر دیا ہے۔

توقیر: چلو بس اب سب مل کر ایک ایک دو دو غزلیں تیار کرو۔ میں پروفیسر کو بتاتا ہوں کہ شاعر مل گئے ہیں۔

جنید: ہاں ٹھیک ہے۔

جنید، کمال اور جمیل تینوں چلے جاتے ہیں۔ پروفیسر عادل جیلانی اسٹیج پہ آتا ہے۔

پروفیسر: ہاں بھئی! کیا بنا شاعروں کا؟

توقیر: شاعر تیار ہو رہے ہیں۔ 

پروفیسر: تیار ہو رہے ہیں مطلب؟

توقیر: ہو رہے مطلب ہو گئے۔ مشاعرے کے لیے تیار ہو گئے۔

پروفیسر: اچھا یار بات یہ ہے کہ میں نے اماں کی سفارش سے ابا کو منا لیا ہے۔ دن کو قرآن خوانی ہو گی اور رات کو مشاعرہ ہو گا۔ شاعروں کو ٹائم بتا دینا۔ اور تم کوئی غزل نہ سنانا۔

توقیر: کیوں؟

پروفیسر: دیکھو ہم غزل پڑھتے ہیں لوگ تالیاں مارتے ہیں۔ تم غزل پڑھو گے لوگ گالیاں ماریں گے۔

توقیر: ارے یار فکر ہی نہ کرو پروفیسر بھائی! اس بار گالیاں نہیں تالیاں ہی پڑیں گی۔

پروفیسر: تمھاری پیٹھ پہ

توقیر: ہاں۔ نہیں نہیں۔ مطلب اصلی والی تالیاں۔

پروفیسر: چلیں ٹھیک ہے یار مشاعرے میں ملتے ہیں۔

پردہ گرتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد جب پردہ اٹھتا ہے تو اسٹیج پہ مشاعرے کا سا سماں ہے۔ توقیر علی اسٹیج کے درمیان میں بیٹھا ہے۔ دائیں جانب پروفیسر اور جنید بیٹھے ہوئے ہیں۔ بائیں جانب کمال اور جمیل بیٹھے ہوئے ہیں۔

توقیر: السلام علیکم! معزز سامعین! توقیر علی آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ پروفیسر عادل جیلانی کے دادا مرحوم کی برسی پر پہلا مشاعرہ انعقاد پذیر ہے۔ ہمارے پاس ملک پاکستان کے نامور شعرا دستیاب ہیں۔

پروفیسر: اوئے۔ اوئے۔ اوئے۔ دستیاب ہیں کا کیا مطلب ہے؟

توقیر: میرا مطلب ہے موجود ہیں موجود ہیں۔ نامور شعرا موجود ہیں۔ (سامعین کی طرف دیکھ کر) میں ملتمس ہوں محترم پروفیسر عادل جیلانی سے کہ وہ اپنے کلام سے ہمارے قلوب و اذہان کو محظوظ فرمائیں۔ جناب محترم پروفیسر عادل جیلانی۔

پروفیسر: السلام علیکم! چوں کہ میں میزبان ہوں اس لیے صرف ایک چھوٹی سی نظم پڑھوں گا۔ اس کے بعد مہمان شعرا اپنا کلام سنائیں گے۔ آخر میں دادا جی کی یاد میں مرثیہ پڑھ کے مشاعرے کا اختتام کریں گے۔

توقیر: جی جی۔ ارشاد ارشاد۔

پروفیسر: پاکستان کے مشہور و معروف گلوکار چاہت فتح علی خان سے ڈینگی وائرس کی طرح متاثر ہو کر میں نے ایک نظم لکھی ہے جس کا عنوان ہے، لوٹا

سب مل کر : واہ واہ واہ کیا کہنے واہ۔ کیا نام ہے۔

پروفیسر: بہت شکریہ جناب! عرض کیا ہے کہ 

کمپین گر چلانی ہو

عوام کو منانا ہو

بھروسے کو بڑھانا ہو

اعتماد گر بنانا ہو

یا واش روم جانا ہو

لوٹا بہت ضروری ہے

سب مل کر: واہ واہ واہ کیا کہنے کیا کہنے پروفیسر صاحب! بہت خوب

جنید: لوٹے کی ضرورت کو خوب نمایاں کیا ہے۔

توقیر: لوٹے کی اہمیت کو کیا خوب اجاگر کیا ہے جناب نے۔

پروفیسر: بہت شکریہ جناب بہت شکریہ

توقیر: یہ تھے جناب محترم پروفیسر عادل جیلانی صاحب۔ اور اب میں دعوتِ کلام دیتا ہوں اپنے گھر سے تشریف لائے جناب محترم جنید انور صاحب!

جنید: بہت شکریہ جناب۔ عرض کیا ہے 

کہ آپ کو watch کر ہم کو ایسا لگا

جیسے ہم کو new زندگی مل گئی

او میری heart رُبا رب سے مانگوں میں کیا

ہم کو سارے جہاں کی happy مل گئی

پروفیسر کے علاوہ سارے واہ واہ واہ کرتے ہیں۔ 

پروفیسر: یہ اشعار مجھے کچھ سنے سنے سے لگتے ہیں۔

توقیر: یہ ان کا شہرہ آفاق کلام ہے اس لیے آپ نے ضرور سنا ہو گا کہیں نہ کہیں سے۔

پروفیسر: ہو سکتا ہے لیکن مجھے اس کلام سے انڈیا کی فلم کے گانے کی مہک آ رہی ہے۔

توقیر: انھوں نے چوری کیا ہو گا۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے۔ (جلدی جلدی سامعین کی طرف کر کے) یہ تھے جناب! محترم جنید انور صاحب! اب دعوتِ کلام دیتا ہوں گلی محلے سے اٹھ کر آئے جناب جمیل اختر صاحب!

جمیل: بہت شکریہ جناب! عرض کیا ہے

کہ مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے سستا کچھ بھی ملتا نہیں

یہ دل تمھارے بن کہیں لگتا نہیں

سب مل کر واہ واہ کرتے ہیں سوائے پروفیسر کے۔

پروفیسر: یار یہ اس کا دوسرا مصرع...

توقیر: تضمین ہے پروفیسر صاحب! تضمین ہے۔

پروفیسر: اچھا اچھا تضمین ہے۔ ٹھیک ہے۔

جمیل: اور شعر دیکھیے کہ 

ڈر لگتا ہے شادی کے ہو جانے کینسل سے

نصیب ہمارے لکھے رب نے لیڈ پینسل سے

پروفیسر حیرت سے دیکھتا ہے اور باقی سب واہ واہ کرتے ہیں۔

جمیل: اور آخری شعر ہے کہ

توقیر: آخری شعر کیوں؟ اس کے بعد تم فوت جاؤ گے؟

جمیل: نہیں وہ اس محفل میں آخری شعر۔

توقیر: اچھا اچھا۔

جمیل: عرض کیا ہے کہ 

رقیب مجھ کو دیکھ کر ڈر گیا

(سب کہتے ہیں واہ واہ واہ واہ)

جمیل: رقیب مجھ کو دیکھ کر ڈر گیا

جو کوئے جاناں میں گیا وڑ گیا

واہ واہ واہ کی آواز گونج رہی ہے اور پروفیسر سر پکڑ کر بیٹھا ہے۔

توقیر: یہ تھے جناب محترم جمیل اختر صاحب۔ اور اب میں ملتمس ہوں اس بزم کے آخری شاعر پتہ نہیں کہاں سے اٹھ کے آئے محترم کمال ارضی صاحب!

کمال: آزاد نظم ہے۔ عنوان ہے، جی ٹی روڈ۔ عرض کیا ہے کہ 

جی ٹی روڈ پہ

ہاں ہاں یعنی جی ٹی روڈ پہ

بریکوں پر بریکیں پڑ رہی ہیں

جی ٹی روڈ پہ

کیوں کہ بلّو چل رہی ہے

جی ٹی روڈ پہ

سب مل کر واہ واہ واہ کرتے ہیں۔

پروفیسر: ایک منٹ! یہ نظم پڑھی جا رہی ہے یا ابرار الحق کے گانے کی منظوم تشریح کی جا رہی ہے۔

توقیر: نظم ہے جناب! (سامعین کی طرف منھ کر کے) یہ تھے جناب محترم۔۔۔

پروفیسر: ایک منٹ! بس یہ اتنا ہی

توقیر: نہیں جناب ابھی آپ کا مرثیہ باقی ہے۔ وہ آپ پڑھیں گے پھر مشاعرہ ختم ہو جائے گا۔

پروفیسر: ارے ایسے کیسے ختم ہو جائے گا۔ ایک ایک ہزار روپے ایک ایک شعر سننے کے لیے نہیں دیا۔

جیند، کمال اور جمیل مل کر: ایک ہزار روپے؟؟؟

توقیر کاغذ سے اپنا منھ چھپاتا ہے۔

پروفیسر: ہاں۔ میں نے فی شاعر ایک ہزار روپے توقیر کو دیے تھے آپ لوگوں کو دینے کے لیے۔

جنید: اچھا تو تو نے پروفیسر سے ایک ہزار روپے لیا اور ہمیں صرف بریانی کی پلیٹ کا بتایا۔

توقیر: نہیں نہیں وہ مشاعرے کے بعد دینے ہی والا تھا۔

کمال: جھوٹ بول رہا ہے یہ پروفیسر نہ بتاتا تو ہمیں تو پتہ ہی نہ چلتا۔

جمیل: ایک تو ہمارا ایک ایک ہزار روپیہ دبا لیا اوپر سے یہ گھٹیا شاعری ہمیں پکڑا دی برسی پر پڑھنے کے لیے۔

پروفیسر (حیرت سے): تو کیا یہ شاعری تم لوگوں کی نہیں تھی؟

جمیل: کہاں۔ ہم شاعر تھوڑی ہیں ہم تو اس کے دوست ہیں۔ بریانی کا بول کے لایا تھا ہمیں۔

پروفیسر (غصے سے): توقیر! میرے پیسے واپس کر۔

توقیر اٹھ کر یہ کہتے ہوئے بھاگتا ہے وہ تو خرچ ہو گئے۔ باقی سب اس کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ چاروں اسٹیج کے دو تین چکر لگاتے ہیں اور اسٹیج سے غائب ہو جاتے ہیں۔ پردہ گر جاتا ہے۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی