اجی سنتے ہو (دوسری قسط)

 


ڈراما : اجی سنتے ہو 

دوسری قسط 

تحریر : پروفیسر عامر حسن برہانوی 


بیوی: اجی سنتے ہو!

میاں: جی فرمائیے۔

بیوی: پہلے ذرا اخبار تو چہرے سے ہٹائیے۔ (اخبار ہاتھ سے چھین لیتی ہے)

میاں: ارے ارے یہ کیا کر رہی ہو۔ خبر تو پڑھنے دو۔ 

بیوی: اچھا اب خبر مجھ سے زیادہ اہم ہو گئی۔

میاں: اوہو۔ میں نے ایسا کب کہا؟

بیوی: کہا نہیں لیکن سمجھتے تو ہو۔

میاں: بھئی میں نہیں سمجھتا ایسا۔ میں تو خبر پڑھنے میں مصروف تھا اور اوپر سے تم آ گئی۔

بیوی: مطلب کہ میرا آنا بھی تمھیں برا لگا ہے۔

میاں: ارے نہیں لگا یار۔

بیوی: تو پھر میرے اخبار پکڑنے پہ بھڑک کیوں رہے ہو؟

میاں: بھڑک نہیں رہا ہوں میں۔

بیوی: دیکھا۔ کتنے غصے سے بول رہے ہو۔

میاں: اچھا تم کہو کیا کہنے آئی تھی۔

بیوی: کہہ تو دوں لیکن تم میری سنو گے کب؟ میری بات کوئی اخبار کی خبر تھوڑی ہے جو تم توجہ سے سنو گے۔

میاں: تمھاری بات کے آگے کوئی خبر ٹک سکتی ہے بھلا۔

بیوی: طنز کر رہے ہو۔

میاں: توبہ توبہ توبہ۔ میں اور طنز وہ بھی تم پہ۔ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

بیوی: سب سمجھتی ہوں میں۔ بیوقوف نہیں ہوں میں۔

میاں: اچھا ناں۔ وقت ضائع نہ کرو اور بات بتاؤ جو تم نے بتانی تھی۔

بیوی: وقت ضائع؟ یعنی میں تمھارا وقت ضائع کر رہی ہوں۔ یعنی میرا تم سے بات کرنا تمھارے وقت کا ضیاع ہے۔

میاں: اب یہ میں نے کب کہا؟

بیوی: ابھی تو کہا۔ ایک تو تم کہہ کر مکر جاتے ہو۔ کاش اس دن بھی تم ایک بار قبول ہے کہہ کر مکر جاتے تو آج میں اس ڈاکٹر کی بیوی ہوتی۔

میاں: ایک تو تم ہر بات میں اس ڈاکٹر کو بیچ میں لازمی لے آتی ہو۔ 

بیوی: بیچ میں تو تم آئے ہو پرائمری سکول کے ماسٹر!

میاں: پرائمری سکول کا ماسٹر ہوں تو کیا ہوا۔ اللہ کا شکر ہے رزق حلال کھا رہا ہوں اور تمھیں بھی کھلا رہا ہوں۔ تمھارے اس فلسفی ڈاکٹر کی طرح محض باتوں سے پیٹ تھوڑی پالتا ہوں۔

بیوی: اے ہے بس کرو۔ تم تو موازنہ کیا ہی نہ کرو اس سے۔

میاں: یہی تو میں سمجھا سمجھا کے تھک گیا ہوں کہ میرا اس سے موازنہ کرتی ہی کیوں ہو؟ بلکہ تم اس کا ذکر ہی کیوں کرتی ہو؟

بیوی: اب اپنی حسرتوں کا اظہار بھی نہ کروں۔ 

میاں اٹھ کر جانے لگتا ہے۔

بیوی: اب کدھر چل دیے؟

میاں: میں تھوڑی دیر باہر جا رہا ہوں۔

بیوی: مجھے سب پتہ ہے تم اپنے اس نکمے دوست شاعر پروفیسر عامر کے پاس جا رہے ہو ناں جو رات کے دو بجے تمھیں کال کر کے اپنی تازہ غزل سنانے کی ضد کرتا ہے۔

میاں: ہاں ہاں اسی کے پاس جا رہا ہوں۔ خدا کی قسم اس کی غزل اتنی بدمزہ نہیں ہوتی جتنا تمھارے منھ سے اس ڈاکٹر کا تذکرہ بدمزہ ہوتا ہے۔

بیوی: اچھا ناں۔ نہیں کرتی اس کا ذکر۔

میاں: یہ تم سات ہزار تین سو پانچ مرتبہ کہہ چکی ہو۔ اور اب تو سات ہزار تین سو چھے مرتبہ کہہ چکی۔

بیوی: ہیں؟ آپ گن کے رکھتے ہیں سب؟

میاں: گن کے نہ رکھوں تو اور کیا کروں۔ رقیب جو ہوا۔

بیوی: توبہ توبہ توبہ۔ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ؟ میں تو ۔۔۔ چلیں چھوڑیں آپ بیٹھیں ادھر اخبار پڑھیں۔ 

میاں (بیٹھتا ہے): اور وہ جو تم بات کہنے آئی تھی وہ کیا بات تھی؟

بیوی: ہاں وہ میں کیا کہہ رہی تھی میں سوچ رہی ہوں کہ کیوں نہ میں بھی آن لائن بزنس شروع کر دوں۔

میاں: آن لائن بزنس؟

بیوی: ہاں ناں۔ وہ یوٹیوب والا بھائی بتا رہا تھا اب آپ گھر بیٹھے آن لائن بزنس کر کے بھی پیسے کما سکتے ہیں۔ 

میاں: اور وہ جو تم نے کوکنگ کا چینل بنایا تھا اس کا کیا ہوا؟

بیوی: وہ میں نے چھوڑ دیا۔

میاں: کیوں؟

بیوی: آپ کو یاد ہے پرسوں میں نے ضد کی تھی کہ کھانا باہر سے کھاؤں گی۔ 

میاں: ہاں اچھی طرح یاد ہے آٹھ سو پچاس روپے بل بنا تھا۔

بیوی: ہاں ہاں۔ ہیں؟ تمھیں بل بھی یاد ہے۔ اب یہ نہ کہنا کہ حساب رکھتا ہوں کیوں کہ کھانا تمھارا رقیب ہے۔

میاں: میں ایسا کیوں کہوں گا بھلا؟

بیوی: ارے مذاق کر رہی تھی۔

میاں: تو تم مذاق بھی کرتی ہو؟

بیوی: تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے پہلی بار کیا ہے۔

میاں: کاش تم نے اس دن دوسری بار قبول ہے کہنے کی بجائے کہہ دیا ہوتا کہ پہلی بار مذاق میں کہا تھا۔ اب نہیں کہوں گی۔

بیوی: اب آپ غصے ہو رہے ہیں۔

میاں: تمھاری باتیں ہی ایسی ہیں۔

بیوی (بھولی صورت بنا کر): میرا مذاق اتنا برا تھا کیا؟

میاں: نہیں خیر اتنا اچھا بھی نہیں تھا۔

بیوی: تو تمھیں کھانا یاد رہنے کی بجائے کھانے کا بل کیوں یاد رہتا ہے؟

میاں: اس لیے کہ کھانے کا بل میں دیتا ہوں۔

بیوی: جھوٹ۔ آٹھ سو پچاس روپے میں نے خود گن کے اپنے ہاتھوں سے ویٹر کو پکڑائے تھے۔

میاں: اچھا تو وہ پیسے کیا اوپر سے آئے تھے؟ میرا بٹوا پرس میں ڈال کر لے گئی تھی تم کہ بعد میں تم کہہ سکو کہ بل میں نے دیا ہے۔

بیوی: ہاں تو بٹوا اٹھایا تھا کہ کہیں تم بھول نہ جاؤ۔

میاں: اگر بھولنے کی بیماری ہوئی تو سب سے پہلے تمھیں بھولوں گا۔

بیوی: ہاں مجھے بھول جانا لیکن کھانے کا بل نہ بھولنا۔

میاں: لیکن اس کھانے کا تمھارے یوٹیوب چینل سے کیا تعلق؟

بیوی: کیوں کہ ضد تو میں نے کی تھی ناں کہ باہر سے کھانا ہے۔

میاں: ہاں تو۔

بیوی: دراصل اس دن میں کھانا بناتے ہوئے چینل کے لیے ویڈیو بھی بنا رہی تھی۔ ویڈیو تو بن گئی پر ہنڈیا جل گئی۔

میاں: اوہ تو یہ بات تھی۔

بیوی: ہاں ناں۔ میں نے سوچا دفع کرو اس کام کو۔ ان لائن بزنس کرتے ہیں۔

میاں: کس چیز کا بزنس کریں گی آپ؟

بیوی: ہیں؟ اس کے لیے چیز بھی چاہیے کیا؟

میاں: چیز جو تم نے بیچنی ہے۔

بیوی: میں کوئی دوکان دار تھوڑی ہوں جو چیزیں بیچا کروں۔ میں تو بزنس کروں گی۔

میاں: اچھا۔ تمھیں پتہ ہے بزنس ہوتا کیا ہے؟

بیوی: ہاں ویسے یہ بتاؤ تو بزنس ہوتا کیا ہے؟

میاں: بزنس کا مطلب ہوتا ہے کوئی پراڈکٹ سستے داموں خریدنا اور اس میں اپنا منافع رکھ کر مہنگے داموں فروخت کرنا۔

بیوی: اچھا تو اسے بزنس کہتے ہیں۔ ارے میں تو بھول گئی۔

میاں: کیا؟

بیوی: وہ ویڈیو میں نے آدھی ہی دیکھی تھی۔ ابھی اس نے بزنس آئیڈیے بھی بتانے تھے اور میں ایکسائٹڈ ہو کر آپ کو بتانے چلی آئی۔ میں ابھی جا رہی ہوں ویڈیو پوری دیکھنے۔

بیوی چلی جاتی ہے۔ میاں اخبار پڑھنے لگ جاتا ہے۔ 

مزید پڑھیے : اجی سنتے ہو!تیسری اور  آخری قسط  

                              اجی سنتے ہو! پہلی قسط 

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی