ڈراما : اجی سنتے ہو
آخری قسط
تحریر : پروفیسر عامر حسن برہانوی
بیوی: اجی سنتے ہو!
میاں: سنائی دے رہا ہے بہرا نہیں ہوں میں۔
بیوی: میں نے کب کہا آپ بہرے ہیں؟
میاں: تو جب پتہ ہے میں بہرا نہیں ہوں تو بولو۔
بیوی: مجھے بازار سے کچھ منگوانا ہے۔ یہ سامان کی لسٹ ہے مجھے لا کر دیں۔
میاں (لسٹ دیکھتا ہے): اتنی لمبی لسٹ؟ اور وہ بھی میک اپ کا سامان۔ اتنے سامان سے تو پورا محلہ کر لے۔
بیوی: ہاں تو پورے محلے کا ہی میک اپ کرنا ہے۔
میاں: کیا مطلب؟
بیوی: مطلب یہ کہ میں بیوٹی پارلر بنانا چاہتی ہوں۔
میاں: بیوٹی پارلر؟ اور وہ جو تمھارا آن لائن بزنس تھا اس کا کیا ہوا؟
بیوی: کوئی کسٹمر ہی نہیں ملی۔ فیس بک پہ پیج بنایا۔ میک اپ کِٹ کی تصویر لگائی۔ انسٹاگرام پہ لگائی۔ لیکن کوئی خریدار نہیں ملی۔
میاں: بیگم! آج ہی تو کام شروع کیا ہے آپ نے۔ ایک ہی گھنٹے میں تھوڑی بزنس شروع ہو جاتا ہے۔ تھوڑا ٹائم لگتا ہے۔
بیوی: نہیں۔ جو بزنس پہلے ہی گھنٹے میں فلاپ ہو جائے وہ فلاپ ہے۔
میاں: بزنس شروع کرنے کے بعد ہمت، حوصلے اور صبر سے کام لینا پڑتا ہے۔
بیوی: آپ بس یہ سامان لے آئیں اور پھر میری ہمت، حوصلہ اور صبر دیکھیں۔
میاں: یہ آپ کا آخری فیصلہ ہے؟
بیوی: آخری اور تاریخی فیصلہ ہے۔
میاں: لیکن اگر پہلے گھنٹے میں تمھارے بیوٹی پارلر میں کوئی لڑکی میک اپ کروانے نہ آئی تو؟
بیوی: کیوں نہیں آئے گی؟ سب سے پہلے تو رقیہ آئے گی۔ اس کی شادی پہ میک اپ میں نے ہی کیا تھا۔ وہ تو میری دیوانی ہو گئی تھی۔
میاں: لیکن وہ تو تم سے بولتی نہیں ہے۔
بیوی: ہماری صلح ہو گئی ہے۔
میاں: آج پھر صلح ہو گئی؟
بیوی: ہماری لڑائی، لڑائی نہیں ہوتی۔
میاں: تو پھر کیا ہوتا ہے؟
بیوی: وہ ہماری آپس کی بات ہے۔ آپ یہ سامان لے آئیں۔
میاں: سامان کے لیے پیسے تو ہوں۔ جب تنخواہ آئے گی تب لے دوں گا۔
بیوی: تنخواہ آنے میں تو پورے دس گھنٹے باقی ہیں۔
میاں: دس گھنٹے تین منٹ اور (گھڑی دیکھ کر) پندرہ سیکنڈ باقی ہیں۔
بیوی: ہاں ناں۔ اتنی دیر میں تو رقیہ کہیں اور چلی جائے گی۔
میاں: کیوں؟
بیوی: میک اپ کروانے۔
میاں: کیا اسے آج ہی میک اپ کروانا ہے؟
بیوی: ہاں بتا تو رہی تھی کہ اس کی نند کو لڑکے والے دیکھنے والے آ رہے ہیں۔
میاں: بھئی اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ جو بھی ہو گا تنخواہ کے بعد ہو گا۔
بیوی: اے لو! زندگی بھر تنخواہ کی محتاجی۔ سائیڈ بزنس شروع کر لیا ہوتا تو یہ نہ ہوتا۔ تم سے اچھا تو وہ ڈاکٹر ہے۔۔۔
میاں: خبردار جو اس کا نام لیا تو۔
بیوی: تو کیا کرو گے؟
میاں: میں اپنے دوست کے گھر چلا جاؤں گا۔
بیوی: وہی تمھارا نکما شاعر دوست۔
میاں: نکما تو نہ کہو اسے۔
بیوی: کیوں نہ کہوں؟ یہ شاعر ہوتے ہی سارے نکمے ہیں۔ نکھٹو۔ نہ کام کے نہ کاج کے۔ دشمن سورج چاند کے۔
میاں: دشمن سورج چاند کے مطلب؟
بیوی: مطلب کہ جب دیکھو اپنے محبوب کو خوبصورت ثابت کرنے کے چکر میں سورج اور چاند میں برائیاں نکالتے رہتے ہیں۔ یاد ہے جو کل اس نے غزل سنائی تھی۔ کہتا تھا کہ سورج سے کہیں بڑھ کے حسیں میرا دلبر ہے۔ اُس میں پتہ نہیں کیا کیا ہے اور اِس میں پتہ نہیں کیا کیا ہے۔
میاں: شعر اگر یاد نہ ہو تو پڑھنے کی حماقت نہیں کرتے۔
بیوی: ارے جب وہ لکھنے کی حماقت کر سکتا ہے تو میں پڑھنے کی حماقت کیوں نہ کروں؟
میاں: شعر لکھنا کوئی حماقت نہیں ہے۔
بیوی: کیوں حماقت نہیں ہے؟ اس سے بڑی حماقت اور کیا ہو گی کہ محبوب تمھاری عورت ہے اور تم اسے شعروں میں مرد بنائے پھرتے ہو۔ یہ حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔
میاں: بھئی یہ تو غزل کی روایت ہے۔
بیوی: ارے بھاڑ میں گئے تم اور تمھاری غزل۔ مجھے سامان لا کر دو آج ابھی اور اسی وقت۔
میاں: ارے کہاں ناں کہ تنخواہ آتی ہے تو لا دیتا ہوں۔
موبائل بجتا ہے۔ بیوی سکرین پہ جگمگاتے میسیج کو پڑھتی ہے۔
بیوی: لو بھئی مبارک ہو۔
میاں: کس بات کی مبارک؟
بیوی: میں نے بتایا تھا ناں کہ رقیہ کی نند کو لڑکے والے دیکھنے آ رہے ہیں۔
میاں: ہاں۔ تو کیا رشتہ طے ہو گیا۔
بیوی: نہیں۔ نہیں۔ وہ آج نہیں آ پائیں گے۔ وہ پرسوں آئیں گے۔ انھیں اچانک کوئی کام پڑ گیا ہے۔
میاں: تو اس میں مبارک دینے والی کیا بات ہے؟
بیوی: سمجھا کرو ناں۔ اتنی دیر میں تمھاری تنخواہ آ جائے گی اور میرا بیوٹی پارلر بن جائے گا۔ تم دیکھنا رقیہ کی نند کا ایسا میک اپ کروں گی کہ لڑکے والے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھیں گے۔
تو بھئی پھر آگے کیا ہوا؟ ہونا کیا تھا۔ بیوی کو بیوٹی پارلر کی صورت میں بزنس مل گیا اور میاں کی ڈاکٹر کے طعنوں اور یوٹیوب والے بھائی کے مشوروں سے جان چھوٹ گئی۔
