عنوان : صابن
تحریر : پروفیسر عامر حسن برہانوی
اگر دنیا میں جراثیم نہ ہوتے تو شاید صابن معرض وجود میں نہ آتا۔ اگر آپ کو صابن سے محبت ہے تو آپ کو جراثیموں کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ لیکن اگر آپ جراثیموں کا شکریہ ادا نہیں بھی کرتے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں کیوں کہ انھوں نے کون سا مائنڈ کرنا ہے۔ لیکن اس سے آپ صابن اور جراثیم کا آپس میں رشتہ اور تعلق دیکھ سکتے ہیں جو انتہائی گہرا ہے۔ اب آپ یقیناً اس بات پہ ہنسیں گے کہ میں نے صابن کا رشتہ جراثیموں سے تو جوڑ لیا لیکن صفائی سے نہیں جوڑا کیوں کہ صابن کا کام تو صفائی کرنا ہوتا ہے۔ لیکن آپ کو مجھ پہ ہنسنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لینا چاہیے کہ میں صرف رائٹر ہی نہیں بلکہ پاکستانی بھی ہوں۔ اور یہ وجہ کافی ہے میری بات پہ نہ ہنسنے کی۔
صابن پہ لکھنے کی سب سے بڑی وجہ میرے فرضی اور قلمی دوست تہذیب صافی ہیں۔ جنھوں نے حال میں ماہنامہ ادبی ورلڈ میں صابن پہ ایک شاہکار نظم شائع کروائی ہے۔ بس اس نظم نے مجھے مجبور کیا کہ میں صابن پہ قلم اٹھاؤں۔ اگرچہ صابن انتہائی سفاک اور ظالم ہے کیوں کہ یہ سینکڑوں جراثیموں کا قاتل ہے لیکن چوں کہ ہمیں اس سماج میں زندہ رہنے کے لیے قاتلوں کی خوشامد کرنا پڑتی ہے اسی لیے میں بھی آج صابن کی مدح سرائی کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہونے جا رہا ہوں۔
صابن ہمیں جراثیموں سے پاک صاف رکھتا ہے۔ اس کا روزانہ کا استعمال ہمارے منھ کو اس قابل بناتا ہے کہ ہم کسی کو منھ دکھا سکیں۔ اسی لیے ہمیں اپنے منھ کو اچھی کوالٹی والے صابن سے دھوتے رہنا چاہیے کیوں کہ مرنے کے بعد ہمارا منھ ہی تو دیکھا جائے گا۔ صابن وہ واحد شے ہے جس کے استعمال سے بڑے بڑے سیاستدان بھی منھ دکھانے کے قابل ہو سکتے ہیں بشرطیکہ وہ اسے باقاعدگی سے استعمال کرتے رہیں۔
صابن ہمارے جسم کی میل اتارتا ہے تاکہ ہم پاک و صاف ہو جائیں۔ لیکن فی زمانہ کچھ صابن ایسے بھی ہیں جو اتنے مہنگے ہیں کہ صرف ہمارے ہاتھ کی میل ہی اتار سکتے ہیں جسے پیسہ کہا جاتا ہے کیوں کہ پیسہ ہاتھ کی میل ہے۔ بس ایسے صابن کے استعمال سے ہاتھ کی میل ایسی اترتی ہے کہ دوبارہ یہ میل چڑھنے میں سال دو سال تو لگ ہی جاتے ہیں۔ بعض سیاستدان اور مولوی ایسے صابن کے استعمال سے گریز کرتے ہیں۔
صابن کو آپ خوبصورتی کا راز بھی کہہ سکتے ہیں لیکن یہ بہت سے لوگوں کی صحت کا راز بھی ہوتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ یہ جن کی صحت کا راز ہوتا ہے ان کو حکیموں سے بھی رابطہ رکھنا پڑتا ہے تاکہ صحت برقرار رہے اور وہ صابن استعمال کر سکیں۔
القصہ مختصر صابن واش روم کی شان ہے۔ غسل کا عمدہ سامان ہے۔ صفائی کی جان ہے۔ جراثیم اس سے پریشان ہے۔ صفائی کی پہچان ہے۔ اب بھی اگر کوئی صابن استعمال نہ کرے تو اس کا اللہ نگہبان ہے۔
