بلو جی کا شکوہ
آزاد نظم
شاعر : پروفیسر عامر حسن برہانوی
بلو مجھ سے کہتی ہے
منھ تیرا برا سا ہے
ناک تھوڑی تیکھی ہے
کان دونوں ٹیڑھے ہیں
جب بھی مسکراتے ہو
زہر مجھ کو لگتے ہو
جب بھی میں یہ سنتا ہوں
بٹوے کو اٹھاتا ہوں
اور پانچ روپے کا سکّہ
بلو کے ہاتھ میں تھماتا ہوں
پھر وہ مسکراتی ہے
اور یہ فرماتی ہے
آپ بھی ناں جان جاں
بڑے حسین لگتے ہیں
Tags:
مزاحیہ شاعری

بلو سے تعریف کروانے کا ہنر نرالا ہے۔
جواب دیںحذف کریں