مرزا گوئٹے
تحریر : پروفیسر عامر حسن برہانوی
تحریریں لکھنے کا شوق اگرچہ پیدائشی نہیں ہے مگر جس عجلت اور فراغت سے وہ تحریریں لکھتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ پچھلے سات جنموں کے بچپنوں کا شوق پورا کر رہے ہوں۔ ان کے ساتھی ادبا اپنی محفلوں میں ان کا تعارف یوں کرواتے ہیں کہ اتنی سرعت سے مرغی بھی انڈے نہیں دیتی جتنی سرعت سے یہ تحریریں لکھتے ہیں۔ اس بھونڈی تشبیہ کے علاوہ کچھ سنجیدہ ادبا یہ بھی کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ مرزا صاحب تحریر لکھنے کی مشین ہیں۔ لیکن وہ الگ بات ہے کہ اس مشین سے جو بھی تحریر نکلتی ہے وہ نا قابل اشاعت بلکہ نا قابل برداشت ہوتی ہے۔
آج بھی مرزا صاحب ایک انگریزی ناول سامنے رکھے بیٹھے اس سوچ میں محو ہیں کہ اس ناول میں ایسا کیا ڈالا جائے کہ یہ ناول اس کا ہو جائے۔ جی ہاں۔ یہی ہے مرزا صاحب کی ان گنت تحریریں لکھنے کا نسخہ۔ موصوف غیر ملکی زبانوں کے تیسرے درجے کے افسانے، ناول اور کالم اٹھاتے ہیں اور ان میں اپنا مرچ مسالہ ڈال کر اپنا بنا لیتے ہیں۔
ان کے کالموں کی تعداد تو ایک ہزار تک جا پہنچی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر چار پانچ کالم لکھ ڈالتے ہیں۔ کالم طویل تو نہیں ہوتے لیکن چربہ ضرور ہوتے ہیں۔ اشاعت اس لیے نہیں ہوتی کہ پکڑے جاتے ہیں۔ عالمی ادب پہ گہری نظر رکھنے والے ان کی تحاریر کا وہ تجزیہ پیش کرتے ہیں کہ پڑھ کر قاری بھی شرمندہ ہو جائے۔ قاری اس لیے شرمندہ ہوتا ہے کیوں کہ لکھاری شرمندہ نہیں ہوتا۔
ناول لکھنے کے لیے تو بیٹھے ہیں لیکن ناول کے اجزائے ترکیبی اکٹھے نہیں کر پارہے۔ ایک ناول سے ان کا جی نہیں بھرا اس لیے اپنے سامنے پانچ انگریزی ناول رکھ کر بیٹھے ہیں۔ ایک ناول سے کہانی لینا چاہ رہے ہیں تو دوسرے ناول سے پلاٹ لینے کی سوچ رہے ہیں۔ پلاٹ کہانی کے لیے موزوں نہیں ہے اور کہانی اپنے ذاتی پلاٹ کا تقاضا کر رہی ہے۔ تیسرے ناول کے ڈائیلاگز نکالے ہیں اور چوتھے ناول کے کردار اٹھا لیے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ڈائیلاگ کرداروں پہ فِٹ نہیں بیٹھتے۔ اور کردار کہانی سے میل نہیں کھا رہے۔ کافی سوچ بچار کے بعد قلم اٹھایا اور ادیبوں کے مسائل پہ کالم لکھ کر سو گئے۔
اب تو یہ ان کا روز کا معمول بن گیا۔ ناول نگاری میں طبع آزمائی کرنے کی بجائے سوچا کہ کیوں نہ کچھ مختلف لکھا جائے۔ لیکن پھر خیال آیا کہ وہ الماری میں ایک ہزار کالم لکھے پڑے ہیں ان کا کیا کیا جائے۔ اب آپ تو جانتے ہیں کہ جن کا کوئی نہیں ہوتا ان کا سوشل میڈیا ہوتا ہے۔ موصوف نے اپنی تحاریر اپنے فیس بک پیج پہ شائع کرنا شروع کر دی۔ سوشل میڈیا صارفین اگر ایک بے سُرے قوال کو وائرل کر سکتے ہیں تو کاپی پیسٹ رائٹر تو ان کے لیے ارسطو اور افلاطون سے کم نہیں۔ موصوف آہستہ آہستہ سوشل میڈیا رائٹر بن کر ابھرے۔ اب ان کے اشاعت کے مسائل حل ہو چکے تھے اس لیے اب ان میں تحریریں لکھنے کا جنون اور زیادہ ہو گیا۔ طے کیا کہ اب کتابیں لکھیں گے۔ اور انٹرنیٹ پہ شائع کریں گے۔ موصوف نے تا دم حال درج ذیل کتابیں تحریر کی ہیں۔
1۔ مرزا گوئٹے کی کہانیاں
2۔ گمشدہ جہنم
3۔ منزل دو قدم پر
4۔ غسل کے اجزائے ترکیبی
ان کے خلاصے درج ذیل ہیں۔
1۔ مرزا گوئٹے کی کہانیاں:
اس سے پہلے کہ میں اس کتاب کے متعلق کچھ لکھوں انتباہ کے طور پر یہ لکھنا مناسب جانتا ہوں کہ دورانِ مطالعہ اگر آپ کے ذہن میں انگریزی ناولوں کی یاد تازہ ہو تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ اس کتاب میں ایک مرکزی کہانی ہے جس کے اندر چار کہانیاں ہیں۔ کہانی یوں شروع ہوتی ہے کہ چار اجنبی ٹرین کی پٹڑی پہ بیٹھے ٹرین کا انتظار کر رہے ہیں۔ انتظار کرتے ہوئے آپس میں باتیں کرنے لگتے ہیں تو ان کو پتہ چلتا ہے کہ وہ چاروں خود کشی کرنے کی نیت سے یہاں بیٹھے ہیں۔ چند گزرتے ہوئے مسافروں کی زبانی پتہ چلا کہ ٹرین چوبیس گھنٹے لیٹ ہے۔ اس لیے وقت گزاری کے لیے چاروں نے اپنی اپنی کہانیاں سنانا شروع کر دیں۔
پہلے کردار نے اپنی داستان کا آغاز یوں کیا کہ اس نے زبردستی کی شادی سے بچنے کے لیے سمندر میں چھلانگ دی۔ تیرنا آتا نہیں تھا۔ سمندر نے اسے بے ہوش کر کے ایک جزیرے پہ پھینک دیا۔ جزیرے پہ چھے چھے انچ کے انسان تھے۔ انھوں نے اسے اغوا کر لیا۔ اس سے اپنے گھر کے کام کرواتے۔ پورے جزیرے کا کھانا بنواتے۔ کپڑے دھلواتے اور اپنے اپنے گھروں کی صفائی کرواتے۔ ایک دن وہ جزیرے کے بادشاہ کے پاس فریاد لے کر پہنچا تو بادشاہ نے اس پہ رحم کھا کر اس کے گھر والوں سے پیسے لے کر اسے اس کے گھر والوں کے حوالے کر دیا۔ اب گھر والے شادی پہ مصر ہیں اور وہ خودکشی کے لیے ٹرین کا انتظار کر رہا ہے۔
پھر دوسرے کردار نے اپنی کہانی سنانا شروع کی۔ اس نے بتایا کہ چند دن پہلے میں نے سمندر کا سفر کیا۔ ایک جزیرے پہ پہنچا جہاں ہاتھی، چیتا، زرافہ سب چھوٹے چھوٹے تھے لیکن چیونٹی، مکھی، چھپکلی اور بچھو سائز میں ڈائنوسار جتنے تھے۔ وہاں کھانے کے لیے پانی اور پینے کے لیے درختوں کے پتے میسر تھے۔ انسان جنگلوں میں اور جانور بنگلوں میں رہتے تھے۔ میں وہاں سات دن رہا۔ جب واپس آیا تو اپنے محلے والوں کو اس جزیرے کی داستان سنائی۔ کسی نے میری بات کا یقین نہیں کیا۔ مجھے پاگل اور آسیب زدہ قرار دے کر مجھے میرے گھر سے یہاں تک کہ محلے سے ہی نکال دیا۔ اب جینے کی کوئی امید باقی نہیں رہی اس لیے خود کشی کے لیے ٹرین کا انتظار کر رہا ہوں۔
اب تیسرے کردار کی باری تھی۔ اس نے بتایا کہ جب وہ پیدا ہوا تو نجومیوں نے اس کا زائچہ بنایا۔ زائچے میں لکھا تھا کہ یہ لڑکا اپنے باپ کو قتل کرے گا اور ماں سے شادی کر لے گا۔ اس لیے والدین نے اسے قتل کرنے کا سوچا۔ چوں کہ وہ ان کی پہلی اولاد تھا اس لیے وہ اسے قتل نہ کر پائے تو انھوں نے اسے اپنے نوکر کے حوالے کر دیا اور کہا کہ اسے دور کسی دوسرے شہر کے یتیم خانے میں داخل کروا دیں۔ پھر جب وہ جوان ہوا تو تجارت کی غرض سے اپنے شہر میں آیا جہاں اسے اس کی والدہ نظر آئی۔ وہ اس پہ فریفتہ ہو گیا کیوں کہ اس کی ماں نے خوب میک اپ کیا ہوا تھا۔ خیر اسے پانے کے لیے اس نے اپنے باپ کا قتل کر دیا اور ماں سے شادی کر لی۔ اسے آج یہ ساری کہانی اسی نوکر کی زبانی معلوم ہوئی جسے سن کر صدمے سے اس کی ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور وہ بھی خود کشی کے لیے ٹرین کی راہ دیکھ رہا ہے۔
ٹرین آنے میں پندرہ گھنٹے باقی تھے۔ اس لیے گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ اب چوتھے کردار کی باری تھی۔ کہانی کے چوتھے کردار نے اپنا منھ کھولا اور اپنی داستان سنانا شروع کر دی۔ وہ ایک کیمیا دان تھا۔ اس نے ایک ایسا کیمیکل تیار کیا جس کی مدد سے وہ عالم برزخ میں جا کر مرے ہوئے لوگوں سے باتیں کر سکتا تھا۔ اس نے وہ کیمیکل پی لیا۔ اب وہ برزخ میں تھا۔ ایک فرشتے نے آمد کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ اسے یونان کے فلسفیوں سے ملنا ہے۔ فرشتہ اسے یونانی فلسفیوں کے محلے لے گیا۔ جہاں اس نے دیکھا کہ ارسطو اور افلاطون اس بات پہ محو گفتگو تھے کہ روٹی کی شکل مستطیل بھی ہو سکتی ہے۔ البتہ ان کے سامنے جو روٹی پڑی تھی وہ چوکور تھی۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ آج کے دن سب کو چوکور یعنی مربع کی شکل میں روٹی ملی ہے۔ جب کہ وہ مستطیل روٹی کھانا چاہ رہے ہیں۔ روٹی کے ساتھ ایک برتن میں پانی پڑا تھا۔ برتن مثلث کی ہیئت میں تھا۔ وہ یہ سب دیکھ کر حیران ہوا کہ یہاں کھانے کے ساتھ ایسا سلوک کیوں ہو رہا ہے۔ خیر وہ باورچی خانے میں گیا تو دیکھا کہ وہاں فیثا غورث بیٹھا روٹیاں پکا رہا تھا۔ خیر وہ وہاں سے نکل کر سقراط کے پاس گیا۔ سقراط شکایت کر رہا تھا کہ اس کے مشروب میں زہر کی مقدار کم ہے۔ تو اس پہ فرشتوں نے اس کے محبوب کے لہجے کے دو چمچ ڈال دیے۔ جسے سقراط نے پورے شوق کے ساتھ نوش کیا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کس سے بات کرے اور کیا بات کرے۔ رفتہ رفتہ کیمیکل کا اثر زائل ہو گیا مگر وہ اسی کیفیت میں مبتلا ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے برزخ جانا چاہتا ہے۔ اس نے ہاتھ میں کھانے کی تراکیب والی کتاب بھی اٹھائی ہوئی ہے جو وہ فیثا غورث کو تحفے میں دینا چاہتا ہے۔ اس کی کہانی سن کر باقی تینوں کردار جامد و ساکت رہ جاتے ہیں۔ اس سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہیں۔ اتنے میں چند مسافر وہاں سے گزرتے ہیں۔ وہ آپس میں باتیں کرتے ہوئے جا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو بتاتے ہیں کہ ٹرین میں کوئی تکنیکی خرابی آ گئی ہے۔ اس لیے مرمت کے لیے ٹرین کو اٹھا کر نفغانستان لے جایا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ٹرین کے ٹھیک ہونے میں چند سو سال تو لگ جائیں گے۔ چاروں کردار سکتے میں آ جاتے ہیں۔
2۔ گمشدہ جہنم:
یہ کتاب جان ملٹن کی پیراڈائز لاسٹ (گمشدہ جنت) سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔ کتاب جب شروع ہوتی ہے تو جہنم میں ابلیس کی بادشاہت دکھائی جاتی ہے۔ وہ اپنی بادشاہی میں خوب مگن ہے۔ اس کے چیلے جہنمیوں کا رجسٹر اس کے پاس لے کر آتے ہیں تو وہ جہنم میں آئے ہوئے سائنس دانوں کو گالیاں دیتا ہے کہ تمھارے کمپیوٹر کدھر ہیں۔ چیلے کہتے ہیں کہ آدم کے بیٹوں نے ٹیکنالوجی پہ قبضہ کر لیا تھا۔ اس پہ ابلیس غصے ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ مٹھی بھر آدم تم پر غالب کیسے آ گئے؟ وہ آدم سے میٹنگ کرنے کا پلان تیار کرتا ہے۔ لیکن پہلے اسے جہنمیوں کا رجسٹر دیکھنا ہے۔ وہ رجسٹر دیکھتا ہے تو خوشی سے باغ باغ ہو جاتا ہے کہ جہنمیوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اور اب تو تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ اسے اپنی ابلیسیت پہ فخر ہونے لگ جاتا ہے۔ اسی اثنا میں خدا نے ابلیس کو بلایا۔ فرشتے بھی موجود ہیں اور آدم سامنے تخت پہ بیٹھا ہے۔ ابلیس اتنا خوش ہے خدا کے کہنے پہ اس بار انجانے میں فرشتوں کے ساتھ مل کر آدم کو سجدہ کر دیتا ہے۔ ادھر وہ سجدہ کرتا ہے اور ادھر اس جرم کی پاداش میں اسے جہنم کی بادشاہت کے عہدے سے معزول کر دیا جاتا ہے۔ فرشتے پکڑ کر اسے جنت میں لے جا رہے ہیں۔ جنت کی سیر کرتے ہوئے وہ دیکھتا ہے کہ اس کے ایجاد کردہ آلاتِ موسیقی بج رہے ہیں اور حوریں رقص کر رہی ہیں۔ وہ حیران ہے کہ رقص اور موسیقی تو میں نے ایجاد کیا یہ چیزیں جنت میں کہاں سے آ گئیں۔ شراب لائی جاتی ہے۔ وہ حیران ہے کہ اس کی ترکیب تو اس نے فرشتوں کو بتائی ہی نہیں پھر یہ بن کیسے گئی۔ حوریں گیت گانے لگیں۔ وہ پھر حیران کہ شاعری کا نزول تو میں نے کیا نہیں اور شاعر جنت میں آ کیسے گیا۔ اپنی ایجادات کا یوں بے دریغ استعمال ہوتا دیکھ کر اس نے احتجاج کرنے کا تہیہ کیا۔ وہ احتجاج کرنے لیے کہ اٹھا ہی تھا کہ چند غلمان یعنی خوبصورت لڑکے اس کا دل بہلانے کے لیے آگے بڑھے۔ وہ حیران تھا کہ یہاں یہ کام بھی ہوتا ہے۔ اس کا جسم پسینے سے شرابور ہو گیا اور اس نے ایک زوردار چیخ ماری تو اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔ یہ سب خواب تھا۔ خدام حال چال پوچھنے آئے تو اس نے بتایا کہ اس نے ایک انتہائی بھیانک خواب دیکھا ہے۔ پھر چیلوں کو حکم دیا کہ خدا کا شکر ادا کرو۔ اس پہ ایک چیلے نے کہا کہ آقا آپ اور خدا کا شکر؟ تو اس پہ ابلیس نے کہا کہ اگر جنت میں شراب، رقص اور موسیقی ہو سکتی ہے تو یہاں خدا کا شکر کیوں نہیں ہو سکتا؟ اسی جملے پہ کہانی کا اختتام ہوتا ہے مگر قاری گہری سوچ میں گم ہو جاتا ہے۔
3۔ منزل دو قدم پر:
مرزا گوئٹے نے یہ کتاب تب لکھی جب اس پہ چند موٹیوشنل اسپیکروں کا سایہ پڑ گیا۔ بڑے بڑے عاملوں کو دکھایا۔ بابوں سے ملوایا۔ صدقے خیرات کیے۔ تعویز دھاگے کیے۔ درباروں پہ حاضریاں دیں مگر کچھ افاقہ نہ ہوا۔ حالت اتنی خراب ہو گئی کہ جہاں چار بندوں کو اکٹھے دیکھتے وہاں کھڑے ہو کر تقریر شروع کر دیتے۔ شروع شروع میں تو لوگ ان کی سن بھی لیتے تھے مگر بعد میں انھیں دیکھ کر دور بھاگنے لگے۔ جب سامعین میسر نہ آئے تو اس کتاب کو لکھنے کا قصد فرمایا اور تین دن میں ہی اس کتاب کو لکھ ڈالا۔ کتاب کی تشہیر سوشل میڈیا پہ بھرپور انداز میں کی گئی۔ واٹس ایپ پہ خوب بانٹی گئی اور مرزا صاحب کے بلاگ پہ محفوظ کر دی گئی۔
کتاب کے آغاز میں مرزا نے اپنی کہانی لکھی۔ انھوں نے لکھا کہ جب انھوں نے لکھنے کا کاروبار شروع کیا تو ان کے پاس صرف ایک لفظ تھا جس کو وہ لکھنا اور پڑھنا جانتے تھے۔ انھوں نے اس ایک لفظ سے پوری کتاب لکھی۔ رفتہ رفتہ ان کے پاس لفظوں کی تعداد بڑھتی گئی اور آج وہ ماشاءاللہ ہزاروں الفاظ کے اکیلے مالک ہیں۔ اپنی کہانی کے بعد انھوں نے مرزا غالب کی کہانی لکھی۔ موصوف لکھتے ہیں کہ مرزا غالب کو بہادر شاہ ظفر کے دربار میں شاعر کے عہدے پہ فائز ہونا تھا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے سات دفعہ انٹرویو دیا اور ساتوں دفعہ ریجیکٹ ہو گئے۔ مگر مرزا غالب نے ہمت نہ ہاری اور خود پہ بھروسہ کرتے ہوئے آٹھویں بار ایک گورے کی سفارش لے کر بہادر شاہ ظفر کے پاس پہنچے تو ان کو شاعر کے طور پہ دربار میں بھرتی کر لیا گیا۔ عہدہ بہت بڑا تھا اور کام بہت چھوٹا تھا یعنی بادشاہ کی تعریف کرنا۔ خیر بادشاہوں کی تعریف کرنا کوئی چھوٹا کام تو نہیں ہے لیکن مرزا غالب کے لیے یہ بالکل آسان تھا۔ چند ہی قصیدوں کے بعد بادشاہ نے اس کے عہدے میں ترقی دے دی اور اسے شاعروں کا چیف بنا دیا۔ لیکن غالب یہاں بھی نہیں رکے۔ انھوں نے محنت جاری رکھی یہاں تک کہ بہادر شاہ ظفر کے استاد کے عہدے پہ فائز ہو گئے۔ تو اگر آپ ترقی چاہتے ہیں تو منزل صرف دو قدموں پر ہے۔ پہلا قدم آپ نے آسمان پہ رکھنا تو دوسرا چاند پر بس پھر منزل آپ کے سامنے ہے۔
اس کتاب میں ایسے اور بھی قصے درج ہیں۔ لیکن سب سے دلچسپ قصہ ابراہم لنکن اور علامہ اقبال کی ملاقاتوں کا قصہ ہے۔ ابراہم لنکن اپنی قوم کو جگانے کے لیے علامہ اقبال کے پاس آیا کرتے تھے۔ ان ملاقاتوں کی تعداد چودہ ہے۔ قائد اعظم کے چودہ نکات انھی ملاقاتوں سے ماخوذ ہیں۔ ملاقاتوں کی تفصیل کتاب میں درج ہے جسے بیان کرنے سے میں قاصر ہوں۔ قصہ مختصر یہ کتاب آپ کو بھرپور انداز میں موٹیویٹ کرتی ہے۔ آپ کا حوصلہ بڑھاتی ہے۔ اور آپ کے اندر کام کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔
4۔ غسل کے اجزائے ترکیبی:
مرزا گوئٹے اپنی ذات میں ایک چھوٹے سے مولوی بھی ہیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ان پہ موٹیویشنل اسپیکروں کا آسیب تھا۔ اپنی گفتگو میں حقانیت لانے کے لیے ان کو اسلام کا سہارا بھی لینا پڑتا تھا۔ انھوں نے بغور مشاہدہ کیا تو انھیں پتہ چلا کہ علما کرام کو نوجوانوں سے جو شکایات ہیں ان میں سے ایک شکایت یہ بھی ہے کہ نوجوانوں کو غسل کا طریقہ نہیں آتا۔ بس پھر کیا تھا مرزا صاحب نے قلم اٹھایا اور ”غسل کے اجزائے ترکیبی“ کے نام سے ایک ضخیم رسالہ مرتب فرمایا۔ موصوف لکھتے ہیں کہ غسل کرنے کے لیے پانچ چیزوں کی ضرورت ہے۔
1۔ پانی
2۔ بالٹی یا شاور
3۔ صابن
4۔ شیمپو
5۔ تولیہ
پانی کے متعلق لکھتے ہیں کہ سب سے بہترین پانی کنویں سے لیا گیا پانی ہے اور اس پانی سے غسل کرنا واجب ہے۔ تاہم اس پانی کے میسر نہ آنے کی صورت میں نلکے کے پانی سے غسل کرنا افضل ہے۔ پمپ کے پانی سے غسل کرنا جائز ہے اور منرل واٹر سے غسل کرنا مستحب ہے۔ پانی اگر میسر نہ ہو اور غسل کرنا مقصود ہو تو شرم سے پانی پانی ہو کر بھی یہ فریضہ سر انجام دیا جا سکتا ہے۔
اس کتاب میں شیمپو کے استعمال کے آداب خصوصی طور پہ بیان کیے گئے ہیں۔ نوجوانوں کو اس کی سخت ضرورت بھی ہے۔ لکھتے ہیں کہ شیمپو کے ساشے کو تین حصوں میں تقسیم کریں۔ ایک حصہ بالوں کے لیے۔ ایک حصہ آئندہ غسل کے لیے اور ایک حصہ صدقہ خیرات کے لیے تاکہ شیمپو میں برکت ہو اور بندہ اور بندے کے بال کمزور نہ ہوں اور یوں وہ شیمپو کے شر سے بچے رہیں۔ صابن کے متعلق لکھتے ہیں کہ اس کا استعمال کرنا ضروری نہیں البتہ اس کا موجود ہونا ضروری ہے۔
یہ رسالہ مختصر اور جامع ہے۔ اس کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ یوٹیوبی علما اس کے حوالے دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ گویا یہ ایک انتہائی مستند رسالہ ہے۔
