واش روم

 


انسان کی بنیادی ضرورتوں میں صرف روٹی، کپڑا اور مکان ہی نہیں بلکہ واش روم بھی شامل ہے۔ یہ ایک ایسی ضرورت ہے جسے محسوس تو سبھی کرتے ہیں لیکن اس پہ لکھنے کی جسارت آج تک کسی نے نہیں کی۔ سچ پوچھیے تو واش روم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ اس کے بغیر زندگی اور مکان دونوں ادھورے ہیں۔ 

میں نے اپنے دوستوں سے جیسے ہی ذکر کیا کہ میں واش روم پہ ایک مضمون لکھنے لگا ہوں تو وہ میرا مذاق اڑانے لگے۔ کچھ نے کہا کہ ادب کا زوال اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا کہ کہاں محبوب کے ناز و انداز پہ غزلیں تخلیق ہوا کرتی تھیں۔ ظالم سماج کے خلاف بغاوت لکھی جاتی تھی۔ زندگی کے نشیب و فراز کو موضوع بنایا جاتا تھا اور کہاں اب کہ لکھنے کے لیے واش روم کا موضوع ہی باقی رہ گیا ہے۔ کچھ نے حوصلہ افزائی بھی کی کہ جدید دور کا ادب اپنا موضوع اپنے ساتھ لاتا ہے۔ جدید ادب ہے ہی یہی کہ اس موضوع پہ لکھا جائے جس پہ آج تک نہیں لکھا گیا۔ کچھ احباب نے تو اس قدر تنقید کی کہ مجھے لگا کہ واش روم پہ قلم اٹھانا میرے قلم کو قلم کر دینے کا سبب نہ بن جائے۔ لیکن میں نے اپنی حماقت پہ ڈٹے رہنے کا فیصلہ کیا اور بالآخر واش روم کے فائدوں پہ مشتمل ایک شاندار مضمون اپنے دوستوں کی نذر کیا جسے پڑھتے ہی کچھ تو میری فکری مفلسی پہ ہنسنے لگے اور کچھ نے جدت طرازی کا سہرا میرے سر پہ باندھ دیا۔ لیکن ان میں سے ایک دوست نے ایک ایسا سوال پوچھا کہ سب اس کے جواب کے لیے بے تاب ہو گئے۔ اس نے پوچھا کہ پروفیسر صاحب! آپ کو ایسی کیا مصیبت آن پڑی تھی کہ آپ نے اس موضوع پہ قلم اٹھایا۔ میں نے عرض کی ذرا اپنی زندگی کے وہ پل شمار کیجیے جو آپ روزانہ کی بنیاد پہ واش روم کی نذر کرتے ہیں تاکہ آپ اس کی اہمیت و افادیت سے بخوبی آگاہ ہو سکیں۔ لیکن اصل میں اس موضوع پہ قلم اٹھانے کی وجہ کچھ اور ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ واش روم محض نہانے دھونے کے لیے استعمال نہیں ہوتے بلکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہیں جہاں نوجوان اپنے فن کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مجھے میرے سرکاری سکول کے واش روم یاد آ گئے۔ ان کے ماتھے پہ لکھا تھا مشرف ہاؤس (ان دنوں پرویز مشرف کا دور حکومت تھا). واش روم کے اندر داخل ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ آپ کسی آرٹ گیلری میں آ گئے ہیں۔ کہیں انسان کے خفیہ اعضاء کی پینٹنگ بنائی گئی ہے تو کہیں کیمرے کے موجود ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ کہیں چاند پہ پہنچنے کی اطلاع دی گئی ہے تو کہیں مستقبل کی تباہی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ کہیں لوٹوں کے استعمال کی نصیحت کی گئی ہے تو کہیں وقت بچانے کا درس دیا گیا ہے۔ ایک واش روم تو باقاعدہ خط و کتابت کا دفتر تھا۔ جہاں گالیوں کا سلسلہ مکالمے کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ حتیٰ کہ ایک دوسرے کی بہنوں کے فون نمبر تک لکھ دیے گئے تھے تاکہ باقی مکالمہ وہاں کیا جا سکے۔ ایک واش روم میں تو باقاعدہ کیمرہ بنا ہوا تھا اور نیچے لکھا تھا کہ خبردار! کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے۔ ایک واش روم میں تو کسی نے قومی ترانہ لکھا ہوا تھا اور نیچے نصیحت بھی لکھی تھی کہ یہ ترانہ آپ کو کھڑا کرنے کے لیے نہیں لکھا گیا بلکہ اسے پڑھ کر آپ کا وہ کھڑا ہو جو کبھی کھڑا نہیں ہوا یعنی آپ کا ہر ایک رونگٹا۔ اور اسے پڑھ کر میرا رونگٹا واقعی کھڑا ہو گیا۔ 

واش روم محض برہنہ تصویروں، گالیوں، نصیحتوں اور فون نمبرز کے تبادلے کے لیے ہی استعمال نہیں ہوتے بلکہ یہاں سلاد بنانے کے طریقے، سہاگ رات منانے کی تکنیکیں اور دستی بم میں بارود بھرنے کے نسخے بھی لکھے جاتے ہیں۔ الغرض واش روم نوجوانوں کے لیے نہ صرف میگزین کا کردار ادا کرتے ہیں بلکہ انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے فن کو باہر لانے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ واش روم کی خالی دیوار نوجوان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے فن کا کرشمہ دکھائے لیکن افسوس کہ یہ فن واش روم کی دیواروں کی حد تک ہی محدود ہو کر رہ گیا جسے تحریری شکل دینا بہت ضروری تھا اور اس مقدس فریضے کو انجام دینے کا ذمہ میں نے اٹھایا اور اس موضوع پہ قلم اٹھا کر میں نے اپنے نوجوانوں کے اس خفیہ ہنر کو دنیا کے سامنے لانے کا جو عزم کیا تھا وہ آج پورا ہو گیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی