اگلا ڈراما کیسا ہو؟
تحریر: پروفیسر عامر حسن برہانوی
کردار
ڈائریکٹر نصیر کیانی
پروڈیوسر سہیل رانا
بسمہ کیانی کریٹو کنٹینٹ مینیجر
رائٹر فرحان قمر
منظر
چاروں کردار ایک گول میز کے ارد گرد کرسیوں پہ بیٹھے ہیں اور اس بات پہ تبادلہ خیال کر رہے ہیں کہ ہمارا اگلا پروجیکٹ کیسا ہونا چاہیے۔
نصیر کیانی: السلام علیکم! ابھی کچھ دیر پہلے میری ہمارے پروڈیوسر سہیل رانا صاحب سے اس موضوع پہ بات چیت ہو رہی تھی کہ ہمارا ڈراما ”میری ساس تم ہو“ انتہائی کامیاب ڈراما رہا ہے۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ ایسا ہی ایک اور شاندار ڈراما بنایا جائے جو مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔
سہیل رانا: جی بالکل! اور اس ڈرامے کی کہانی بالکل گھریلو قسم کی ہونی چاہیے۔ اور اس دفعہ ہیروئن کے لیے کوئی نئے چہرے کا انتخاب کرنا چاہیے۔
نصیر کیانی: نئے چہرے کے لیے میں نے پہلے ہی ہمارے کاسٹنگ ڈائریکٹر جمیل چودھری صاحب کو بتا دیا تھا اس کی فکر مت کریں اس کا بندو بست ہو جائے گا۔
سہیل رانا: بھئی بہت خوب! تمھاری ہوشیاری کی داد دینا چاہوں گا۔
نصیر کیانی: ارے سر! پچھلے پانچ سالوں سے آپ کے ساتھ کام کر رہا ہوں آپ کی فطرت سے اچھی طرح آگاہ ہوں۔
سہیل رانا: کیا مطلب؟
نصیر کیانی: میرا مطلب ہے کہ آپ کی نیچر کو سمجھ چکا ہوں یہ تو ایک جنرل بات ہے ایک ساتھ کام کرتے ہوئے ایک دوسرے کا پتہ تو چل ہی جاتا ہے۔
سہیل رانا: ہاں یہ تو ہے۔
نصیر کیانی: جی تو سب سے پہلے کہانی پہ بات کرتے ہیں۔
فرحان قمر: سر! میرے پاس ایک شاندار کہانی ہے۔ یہ کہانی ہے ایک نوجوان لڑکے کی جس کا تعلق ایک انتہائی پسماندہ گاؤں سے ہے۔ وہ گاؤں سے شہر میں پڑھنے کے لیے آتا ہے۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ واپس اپنے گاؤں میں جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ اپنے گاؤں والوں کے لیے ایسا کیا کرے کہ اس کا گاؤں پسماندگی سے نکل کر ترقی یافتہ ہو جائے۔ وہ سب سے پہلے گاؤں کے بچوں اور بچیوں کے لیے ایک سکول بناتا ہے۔۔۔۔
نصیر کیانی: یار یہ کوئی کہانی ہے۔ سیدھی سیدھی سی ہے۔ کوئی مرچ مسالا نہیں ہے اس میں۔
سہیل رانا: نہیں اگر ہیروئن شہر کی لڑکی ہو اور وہ ہیرو کو گاؤں جانے سے منع کرے اور آخر میں ہیرو گاؤں کی زندگی سے تنگ آ کر شہر کا ہی رخ کر لے تو کہانی دلچسپ ہو سکتی ہے۔
فرحان قمر: لیکن سر اس سے تو کہانی کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔
نصیر کیانی: کہانی کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے، انٹرٹینمنٹ۔ اور جس کہانی میں یہ نہ ہو وہ کہانی کامیاب نہیں ہوتی۔
بسمہ کیانی: ویسے میں سوچ رہی ہوں کہ اس دفعہ کچھ ڈفرنٹ کرتے ہیں۔
سہیل رانا: بالکل۔ میں بھی یہی چاہتا ہوں۔
فرحان قمر: لیکن سر میری کہانی ابھی۔۔۔
نصیر کیانی: ہاں تمھاری کہانی اچھی ہے لیکن کچھ ڈفرنٹ ہونا چاہیے۔ تو بسمہ جی! بتائیے کیا ڈفرنٹ ہونا چاہیے۔
بسمہ کیانی: میں یہ سوچ رہی ہوں کہ میری ساس تم ہو میں لڑکی غریب تھی اور لڑکا امیر تھا۔ اس دفعہ کیا کرتے ہیں کہ لڑکا غریب بنا دیتے ہیں اور لڑکی امیر کر دیتے ہیں۔
سہیل رانا: ہاں اور لڑکا جاب کے لیے لڑکی کے دفتر میں انٹرویو کے لیے آئے۔
نصیر کیانی: اور لڑکی اسے دیکھتے ہی اس پہ فدا ہو جائے۔
بسمہ کیانی: ہاں لیکن لڑکا اسے گھاس نہ ڈالے۔ بالکل ویسے ہی جیسے میری ساس تم ہو میں لڑکی، لڑکے کو گھاس نہیں ڈال رہی تھی۔
نصیر کیانی: اور لڑکے کی منگیتر بھی ہونی چاہیے۔ اور یہ منگنی ٹوٹنی چاہیے تاکہ ایک آئیکونک سین کریٹ ہو۔
بسمہ کیانی: اور یہ اس طرح ہو کہ لڑکی عین بارات والے دن لڑکے کو گھر سے اٹھوا لے۔
سہیل رانا: ہاں جیسے میری ساس تم ہو میں لڑکے نے شادی والے دن لڑکی کو اٹھوا لیا تھا۔
بسمہ کیانی: بالکل! لیکن ادھر لڑکی، لڑکے کو اٹھوائے گی۔
نصیر کیانی: اور یہ سین پاکستانی ڈراما انڈسٹری کا سب سے انوکھا سین ہو گا۔
بسمہ کیانی: بالکل اور اس سین کو وائرل بنانے میں سب سے اہم کردار ہمارے یوٹیوبرز ادا کریں گے۔
سہیل رانا: وہ اپنے ویوز کے چکر میں ہمارے ڈرامے کو وائرل کر دیں گے۔
نصیر کیانی: ہاں بڑے لیول کی ٹی آر پی آئے گی۔
فرحان قمر: لیکن سر! یہ سب کچھ تو ہم سانوریا میں کر چکے ہیں۔ اور اسی کہانی کو ڈفرنٹ بنا کر ہم نے میری ساس تم ہو بنایا تھا۔
سہیل رانا: ہاں لیکن اس میں ہیروئن نئی ہو گی۔
بسمہ کیانی: اور ہیرو بھی نیا ہونا چاہیے۔
نصیر کیانی: اور لوکیشن بھی تو ڈفرنٹ ہو گی ناں۔
فرحان قمر: وہ تو ٹھیک ہے لیکن کہانی تو وہ وہی ہے ناں۔
نصیر کیانی: ہاں تو ہم اینڈ بدل دیتے ہیں۔
بسمہ کیانی: سانوریا میں جس لڑکے نے لڑکی کو اٹھایا تھا اس لڑکے کو ہم نے اینڈ میں مار دیا تھا۔ اب ہم اس لڑکی کو جس نے لڑکے کو اٹھانا ہے اسے چھوڑ کر اس لڑکی کو مار دیتے ہیں جو اس لڑکے کی منگیتر تھی۔ ہو گیا ناں اینڈ ڈفرنٹ۔
نصیر کیانی: ویری گڈ! لڑکی کی ڈیتھ۔ یہ اچھا اینڈ ہے۔ لڑکی کی ڈیتھ پہ پورا میڈیا روئے گا۔
فرحان قمر: لیکن سر میری ساس تم ہو میں ہم یہ دکھا چکے ہیں۔ ہم نے ہیروئن کو اینڈ میں مار دیا تھا کیونکہ وہ غریب تھی اور اس کی امیر ساس اس پہ بہت ظلم کرتی تھی۔
نصیر کیانی: ہاں تو اس میں ہم نے ہیروئن کو مارا تھا اس میں ہم سائیڈ ہیروئن کو ماریں گے۔
سہیل رانا: بھئی مزہ آ گیا۔ یہ کہانی سپر ہٹ ہو گی۔
فرحان قمر: لیکن سر! اس کہانی سے عوام کو سبق کیا ملے گا؟
بسمہ کیانی: اوہو۔ ڈراما سبق لینے کے لیے تھوڑی ہوتا ہے۔ ڈراما تو انٹرٹینمنٹ کے لیے ہوتا ہے۔
فرحان قمر: لیکن اس انٹرٹینمنٹ کا ہمارے معاشرے پہ کیا اثر پڑے گا؟
نصیر کیانی: لڑکیوں میں شعور آئے گا۔
بسمہ کیانی: وہ اپنی پسند سے شادی کر سکیں گی۔
سہیل رانا: چاہے اس کے لیے لڑکے کو اٹھوانا ہی کیوں نہ پڑے۔
فرحان قمر: یہ غلط ہے۔
نصیر کیانی: لیکن کہانی سپر ہٹ ہے۔
سہیل رانا: تو ہم اپنے کاسٹنگ ڈائریکٹر سے نئی ہیروئن کے بارے میں کب ملنے جا رہے ہیں؟
نصیر کیانی: آج شام ہی۔
بسمہ کیانی: تو کہانی فائنل ہے؟
سہیل رانا: ہاں فائنل ہے۔
نصیر کیانی: تو فرحان تم سکرپٹ لکھنے کی تیاری کرو۔
فرحان قمر: سر سکرپٹ تو وہی ہے سانوریا اور میری ساس تم ہو والا۔ بس کرداروں کے نام اور لوکیشن ہی تو بدلنی ہے۔
سہیل رانا: ٹھیک ہے لیکن اس بار ڈائیلاگ دھیان سے بدلنا۔ ہیروئن کے ڈائیلاگ ہیرو کو ہیرو کے ڈائیلاگ ہیروئن کو دیتے ہوئے مذکر مونث کا خیال رکھنا۔
فرحان قمر: فکر ہی نہ کریں میں تو اس کام میں ایکسپرٹ ہو گیا ہوں۔
نصیر کیانی: چلیں آج کی میٹنگ یہی پہ ختم کرتے ہیں۔ پھر ملیں گے۔ اللہ حافظ ۔
