لگتا نہیں ہے دل میرا ایگزامینیشن ہال میں
کس کی بنی ہے عالم نا پائیدار میں
سٹوڈنٹ کو نگران سے نہ استاد سے گلہ
قسمت میں سپلی لکھی تھی فصلِ بہار میں
ان کتابوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے ذہنِ لاچار میں
دن امتحاں کے ختم ہوئے خیر ہو گئی
جی بھر کے خوب ناچیں گے بھرے بازار میں
Tags:
مزاحیہ شاعری
