شیمپو

 


تمام مکاتب فکر کے نمائندگان سر جوڑ کر اس بات پہ اتفاق رائے قائم کرنے کے لیے بیٹھے ہیں کہ اسلام میں شیمپو کا استعمال حلال ہے یا حرام۔ چوں کہ شیمپو روزمرہ کے استعمال کی چیز ہے اس لیے ضروری ہے کہ اس کی مذہبی و شرعی حیثیت واضح کر دی جائے تاکہ لوگوں کو جہنم کی آگ سے بچایا جا سکے۔ کیوں کہ سالا ایک شیمپو اچھے خاصے متقی مسلمان کو جہنمی بنا سکتا ہے۔ بہر کیف ایک طویل خاموشی کے بعد ایک مذہبی نمائندے کی آواز بلند ہوئی، ”شیمپو چوں کہ انگریز کی ایجاد ہے۔ اور اس کی خرید وفروخت سے انگریزوں کی معیشت کو تقویت پہنچتی ہے اس لیے لازم ہے کہ امت مسلمہ سڑکوں پہ نکلے اور اس انگریزی فتنے کا بائیکاٹ کرے تاکہ کافروں کو نقصان پہنچے اور ان کی معیشت تباہ و برباد ہو جائے۔“ 

تمام مکاتب فکر نے ان کی اس بات سے اتفاق کیا۔ لیکن بعد ازاں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ شیمپو بنانے والوں میں خود مسلمان بھی شامل ہیں اور ملکِ ھذا میں فروخت ہونے والے شیمپو کا انگریز کی معیشت سے براہ راست کوئی تعلق نہیں تو موضوع ایک نازک موڑ پہ آن پہنچا۔ قریب تھا کہ ان شیمپو ساز مسلمانوں پہ کفر کا ساتھ دینے پہ کفر کا فتویٰ جاری کر دیا جاتا اور انھیں واجب القتل قرار دے کر جہنم واصل کیا جاتا کہ تمام مکاتب فکر کے نمائندگان دو حصوں میں بٹ گئے۔ ایک حصے کے نمائندے اس ایجاد کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے چھیننا چاہتے تھے جب کہ دوسرے حصے کے نمائندے اس ایجاد کو اسلامی رنگ میں ڈھال کر پیش کرنے کے لیے ان مسلمانوں کا ساتھ دے رہے تھے۔

ایک طویل بحث کے بعد بات شیمپو کی تاریخ پہ آن پہنچی۔ ایک علامہ صاحب اٹھ کھڑے ہوئے اور انبیاء کے زمانے میں شیمپو کے وجود کا ثبوت مانگنے لگے۔ اب تاریخ دان علماء حرکت میں آ گئے اور شیمپو کی تاریخ بیان کی جانے لگی۔

ایک علامہ صاحب بولے، ”شیمپو کا استعمال قرآن میں کہاں لکھا ہے؟“ کیوں کہ ان کے نزدیک ہر وہ چیز شجر ممنوعہ ہے جو قرآن میں نہیں ہے۔ تاہم تمام مکاتب فکر نے اس بات کو سنجیدگی سے سنا کیوں کہ فقہی مسائل کا ماخذِ اول تو قرآن ہی ہے۔ بحث نازک مرحلے پہ آ گئی۔ اکثر علماء بیان فرمانے لگے کہ قرآن میں غسل کا حکم تو ہے لیکن اس کے متعلقات و لوازمات کا تفصیلی ذکر قرآن میں نہیں ہے کہ یہ انسان کی اپنی منشاء پہ چھوڑ دیا کہ وہ کیسے اور کن چیزوں کا استعمال کر کے غسل کرتا ہے۔ کچھ علماء یوں گویا ہوئے کہ غسل کے لیے ضروری ہے کہ غسل جس چیز سے کیا جائے وہ پاک ہو۔ یعنی پانی پاک ہونا چاہیے۔ تو جب پانی پاک ہونا چاہیے تو شیمپو بھی پاک ہونا چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ شیمپو کے اجزائے ترکیبی پہ بحث کی جائے۔ کچھ علماء کے نزدیک شیمپو کیمیکلز کو ملا کر بنائے جانے کی وجہ سے ناپاک قرار پایا۔ کچھ علماء شیمپو کا لیب ٹیسٹ کروانے کا حکم دے رہے تھے تاکہ اس کے پاک و ناپاک ہونے کا فیصلہ کیا جا سکے۔

بعض علماء نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ شیمپو کی حلت و حرمت کا فیصلہ اس کے استعمال پہ منحصر ہے۔ چناں چہ ایک علامہ صاحب یوں گویا ہوئے، ”اگر شیمپو بالوں کو طاقتور بنائے تو جائز اور اگر جسم کو کمزور کرے تو ناجائز ہے.“

یہ طویل اور لا حاصل بحث چلتی رہی حتیٰ کہ نماز کا وقت ہو گیا اور تمام مکاتب فکر بغیر کسی نتیجے پہ پہنچے نماز کے لیے اپنی اپنی مسجدوں میں چلے گئے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی