مرزا گوئٹے کا شعری مجموعہ

مرزا گوئٹے کا شعری مجموعہ


مرزا گوئٹے نثر نگاری میں خوب طبع آزمائی کے بعد شاعری کے میدان میں اترے۔ عروض سے کافی تنگ تھے۔ وزن اور بحر سے ان کی ازلی دشمنی تھی۔ شاعری بھی کرنی تھی اور وزن و بحر کی قید بھی قبول نہیں تھی۔ بلآخر آزاد اور نثری شاعری میں ان کو آسانی نظر آئی۔ سوچا کہ یہ ترکیب تو بہت کارآمد ہے کہ شاعری بھی نہ لکھنی پڑے اور بندہ شاعر بھی بن جائے۔ آزاد شاعری کے مطالعہ کے بعد وہ جان گئے کہ آزاد شاعری چند ادھورے نثری جملوں کے مجموعے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ تو ان کو آزاد نظم کے نام پہ نامکمل نثری جملے ہی تو لکھنے ہیں۔ یہ کون سی مشکل بات تھی۔ قلم اٹھایا اور لکھنا شروع کر دیا۔ پہلے موضوع کا انتخاب کیا۔ پھر اس پہ چند ادھورے نثری جملے لکھے۔ اور ہو گئی نظم تیار۔ ان کی ابتدائی کاوش ملاحظہ فرمائیں۔
نظم: کرسی
دو ہاتھ
اور چار ٹانگیں
پیٹ بھی رکھتی ہے ایک عدد
مگر سیاست دانوں کی طرح
بھرا ہوا نہیں
بلکہ مکمل خالی
کوئی آئے اور اس پہ
اپنا قبضہ جما سکے

نظم لکھنے کے بعد بے چین ہو گئے کہ اب سنائیں کسے۔ فوراً سوشل میڈیا پہ شائع کر دی۔ سوشل میڈیا پہ ان کی پہلے بھی بہت فین فالونگ تھی۔ لوگ ان کی نثری تحریروں سے خوب فیض حاصل کر چکے تھے۔ چند ہی گھنٹوں میں ان کی پہلی نظم وائرل ہو گئی۔ اور اب تو موصوف دھڑا دھڑ نظمیں لکھنے میں مصروف ہو گئے۔ ان کی نظموں کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں کہیں کہیں شاعری بھی پائی جاتی ہے جو ڈھونڈنی پڑتی ہے۔ 
چند ہی دنوں میں ان کا ایک شعری مجموعہ بن کر تیار ہو گیا جو ان کے بلاگ پہ محفوظ کر دیا گیا۔ ان کے قارئین اس شعری مجموعے کو پڑھتے ہیں اور خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔
پچھلے دنوں میں نے اپنے دوست کو ادھار دینے سے انکار کر دیا تھا تو انھوں نے مجھے مرزا گوئٹے کا شعری مجموعہ واٹس ایپ کیا۔ اور نیچے لکھا کہ میں اکیلا ہی کیوں پڑھوں۔ آپ بھی لطف اندوز ہوں۔ مجھے چوں کہ شاعری کا شوق تھا اس لیے اس کا شکریہ ادا کیا۔ شعری مجموعہ کھولا تو اس نے میرا انگ انگ کھول کے رکھ دیا۔ میں اپنے دوست کو اپنا محسن سمجھ رہا تھا لیکن اب پتہ چلا کہ اس نے تو مجھ سے شدید قسم کا انتقام لیا ہے۔ لیکن میں یہ تبصرہ انتقام لینے کے لیے نہیں لکھ رہا بلکہ فنی خرابیوں کے باوجود پیدا ہونے والے ایسے شاہکار فن کو قارئین تک پہنچانے کی خدمت کر رہا ہوں۔ آئیے موصوف کی چند نظموں کا ملاحظہ فرمائیے۔
نظم: پنکھا
تین پر اور ایک موٹر
کیا حسیں کرشمہ ہے
موٹر کو تار لگتی ہے
تار لگتی بورڈ کو
بورڈ سے بجلی آتی ہے
پنکھے کو چلاتی ہے
پنکھا ہوا دیتا ہے
میرے کمرے کی ہر چیز
مکمل ہلا دیتا ہے

پنکھے پہ ایسی شاہکار نظم میں نے آج تک نہیں پڑھی۔ بلکہ دنیائے ادب نے کبھی پنکھے پہ لکھنا گوارا ہی نہیں کیا۔ مرزا صاحب نے پنکھے کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے جو یہ نظم لکھی ہے دل چاہتا ہے کہ پنکھوں کے دکان میں ان کی اس نظم کو دیوار پہ لکھوا دوں۔ کیا تخیل ہے۔
ہم نے شاعری میں ہر مظلوم طبقے کے دکھ پڑھے ہوں گے۔ ہمارے شعرا نے ہر طبقے کے المیے کو دل کھول کر بیان کیا ہے۔ لیکن کبھی کسی شاعر نے چارپائی کے المیے پہ زبان نہیں کھولی۔ مرزا گوئٹے جو اس ظلم کے چشم دید گواہ ہیں۔ اس المیے کو اپنی ایک نظم میں یوں بیان کرتے ہیں:
نظم: چارپائی کا المیہ
یہ جو چارپائی ہے
چار پائے رکھتی ہیں
مگر چوپایہ نہیں
گھاس تو نہیں کھاتی
مگر مفت خوروں کو
گھاس ضرور ڈالتی ہے
پھر یہ سارے مفت خورے
مل کر اس کو توڑتے ہیں

کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ کوئی شاعر چارپائی کا المیہ بیان کرے گا۔ یہ اعزاز صرف مرزا گوئٹے ہی کو حاصل ہے۔
شاعری میں تخیل بہت اہم ہے۔ مرزا گوئٹے نے اپنے تخیل پہ بہت کام کیا ہے۔ وہ اپنے تخیل کے متعلق لکھتے ہیں:
آتے ہیں اے آئی سے یہ مضامیں خیال میں
وگرنہ شعر میں گوئٹے کی جستجو کیا ہے
جی ہاں! یہ بھی ان کا ایک اسلوب ہے۔ اردو کے نامور شعرا کی شاعری سے چھیڑ چھاڑ کر کے موصوف اپنا شعری مواد تیار کرنے میں اپنی مثال آپ ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔

ہیں اور بھی دنیا میں
 شاعر بہت اچھے
مگر جب گوئٹے لکھتا ہے
 تو لوگ چیخ اٹھتے ہیں
کہ بھائی گوئٹے! بہت اچھے

ہم کو معلوم ہے
ہاں ہاں ہمیں معلوم ہے
جنت کی حقیقت 
ہمیں معلوم ہے
دل بہلتا ہے مگر
اس خیال سے

یہ بہشت اور فکرِ جہاں
سب خودی کے مرحلے ہیں
مگر اک بات اے خداوند!
جو تم نے مجھ سے کی ہے
تو سن کہ مجھے کیوں ہو؟
جہاں کی فکر کچھ کیوں کہ
جہاں تیرا ہے میرا نہیں ہے

تم جب آؤ گی تو بکھرا ہوا پاؤ گی مجھے
میرے سر پہ بالوں کے سوا کچھ بھی نہیں
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمھیں
میرے کمرے میں جالوں کے سوا کچھ بھی نہیں
ان میں ایک رمز ہے
اور اس رمز میں اک مکڑی ہے
جو کسی اور کے در و بام نہیں پا سکتی
زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتی

اس شعری مجموعے میں ہے تو اور بھی بہت کچھ لیکن سوچتا ہوں کہ اس مجموعے کو انور مقصود کے ہاتھوں خط لکھوا کر فراز احمد فراز کے ہاں پہنچا دوں۔ شاید فرشتوں کو عذاب کی ایک اور صورت مل جائے۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی