کیوں کریں ہم؟

 

کیوں کریں ہم

بے سر و پا غزل در زمینِ جون ایلیا


کیوں پھریں حلقے میں بعد از انتخاب

اک حلقے کی خاطر خود کو ہلکا کیوں کریں ہم؟


بیگم کو اس کے منھ پہ ”موٹی“ بول کر

برباد جسم و گھر کا نقشہ کیوں کریں ہم؟


کہا بیگم نے شوہر جب میرا موجود ہے

تو عید پہ قربان بکرا کیوں کریں ہم؟


تقدیر میں یوں ہے تو مل کے بانٹ لیں

ایک ہے ”کرسی“ تو جھگڑا کیوں کریں ہم؟


ٹک ٹاک کی جو ہے سہولت آ گئی

کوٹھے پہ جا کے اب یہ مجرا کیوں کریں ہم؟ 


شاعر : ابن قباچہ 

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی