ہم نے الفت کا بھرم سب سے جدا رکھا ہے

 

ہم نے الفت کا بھرم سب سے جدا رکھا ہے

شب ہجر میں تڑپتی پیروڈی



ہم نے الفت کا بھرم سب سے جدا رکھا ہے

کہ شبِ ہجر میں Netflix چلا رکھا ہے


اور تیرے غم میں کہیں بھوک نہ لگ جائے مجھ کو

اس لیے پانچ سموسے، تین شوارمے اور ایک برگر بھی منگا رکھا ہے


ملتی ہیں کبھی سالن میں کبھی روٹی میں

تم نے زلفوں کو کیوں اتنا گرا رکھا ہے؟


میرے محبوب کے کچھ نقش و نگار ایسے ہیں

جیسے چولہے پہ کسی نے توا رکھا ہے


بہت ملتی ہے خوشی پڑھ کے ہمیں ”ذوقِ جنوں“

ہر اک پوسٹ میں شاعر نے مزہ رکھا ہے


شاعر :  ابنِ قباچہ

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی